خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 377 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 377

خطبات طاہر جلد ۶ 377 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۸۷ء اپنے آپ کو اولین مخاطب سمجھتا ہے۔اس لئے جن پر پہلے ہی مالی ذمہ داریاں زیادہ ہیں نسبت کے لحاظ سے وہ آگے بڑھ کر اور بھی زیادہ بوجھ اٹھانے کے لئے خوشی کے ساتھ آمادہ ہو جاتے ہیں لیکن ایک ایسا طبقہ جماعت میں ہے جو یا تو مالی نظام میں پوری طرح شامل ہی نہیں یا اپنی توفیق کے مطابق ادا نہیں کر رہا۔ان میں امراء بھی ہیں اور غرباء بھی۔دراصل وہ میرے مخاطب ہیں اور خصوصیت کے ساتھ آج وہ میرے مخاطب ہیں کیونکہ میرا گزشتہ تجربہ مجھے یہ بھی بتاتا ہے کہ زیادہ تر یہی وہ طبقہ ہے جن تک یا تو خطبات کی آواز نہیں پہنچتی یعنی ان میں سے بعض اتنے بے تعلق ہو چکے ہیں کہ وابستہ رہتے ہوئے بھی جماعت کے پروگراموں سے پوری طرح آشنا نہیں ہوتے ، خلفائے وقت جو بھی تحریکات کرتے ہیں ان سے رابطہ نہیں رکھتے اور چونکہ جماعت سے بالعموم رابطہ کمزور ہو جاتا ہے اس لئے کئی جمعوں میں بھی وہ غائب رہتے ہیں۔تو ایک حصہ ایسا ابھی بھی موجود ہے جن تک آواز ہی نہیں پہنچتی۔اس لئے وہ گزشتہ تحریکات کے دوران غالبا عدم علم کی وجہ سے اپنی بعض کمزوریوں کو دور نہیں کر سکے لیکن کچھ ایسا طبقہ بھی ہے جن تک آواز تو پہنچتی ہے مگر مجبوریاں حائل ہوتی ہیں اور اس کی بناء پر یہی وہ جس کو مجبوریاں سمجھتے ہیں ان کے پیش نظر کچھ دیر تک وہ خطبہ سن کر یا جماعت کے دوسرے عہد یداران کی تحریک کے اثر سے سوچتے رہتے ہیں کہ ہمیں کچھ قدم اٹھانا چاہئے پھر وہ نیکی کی تحریک دب جاتی ہے اور وہ دنیا کے عام دستور کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔اس دوسرے طبقے میں دو قسم کے لوگ شامل ہیں ایک طبقہ ان میں وہ ہے جن کی آمدن تھوڑی ہے اور ذمہ داریاں زیادہ ہیں۔وہ اپنے نفس کو یہ کہہ کر مطمئن کرتے ہیں کہ ہمیں توفیق نہیں ہے لیکن جیسا کہ میں نے بار ہا یاد دہانی کرائی ہے جن کو توفیق نہیں ہے یاوہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے توفیق نہیں اسے غائب رہنے کا حق نہیں ہے نہ از خود فیصلہ کرنے کا حق ہے اس کو چاہئے کہ دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ کام لیتے ہوئے اپنی مجبوریوں سے مختصر ا مطلع کر دے جماعت کو یا اگر جماعت کے سامنے حالات کھول کر بیان کرنا مناسب نہ سمجھیں تو مجھے لکھ دیں اور میں نے عموما یہ وعدہ کیا ہوا ہے جماعت سے کہ ایسے سب دوستوں کو ان کی توفیق کے مطابق چندہ ادا کرنے کی اجازت دے دیا کروں گا تا کہ ان کا یہ فعل خدا کی نگاہ میں کوئی کمزوری شمار نہ ہو بلکہ با قاعدہ نظام جماعت کے مطابق جتنی ذمہ داری ان کو ادا کرنی چاہئے وہ ادا کر رہے ہوں۔اس سے ان کے دل میں بھی پھر حرکت پیدا ہوگی ،ان کے