خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 379
خطبات طاہر جلد ۶ 379 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۸۷ء ہوں کہ میں ان سے کہتا ہوں کہ تم پہ اس لحاظ سے بھی یہ ظلم ہوگا کہ میں جانتا ہوں کہ جو کچھ نہ کچھ مشکل کے باوجو دضر ور فرض کرتے ہیں ان کے اندر اللہ تعالیٰ بہت ہی پاکیزہ تبدیلیاں پیدا فرماتا ہے اور ان کے اموال میں بھی وسعتیں عطا فرماتا ہے اور برکت بخشتا ہے یہاں تک کہ بارہا ایسا ہوا ہے کہ جس کو میں نے اجازت دی جس نے خود مجبوریاں لکھ کے اجازت لی تھوڑے عرصے کے بعد ہی اس کا خط آیا کہ میرے حالات خدا کے فضل سے بالکل بدل چکے ہیں اور مجھے اب اس اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔تو میں یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ میں آپ کے اوپر دو ہر اظلم کرنے والا ہوں گا ( اول تو پہلے کی اجازت ہی نہیں مجھے ) لیکن پھر بھی دو ہر اظلم کرنے والا ہوں گا اگر میں آپ کو کلیۂ چندوں سے مستفی قرار دے دوں۔پھر تزکیۂ اعمال کے ساتھ خدا کی راہ میں خرچ کئے جانے والے اموال کا اتنا گہراتعلق ہے کہ عمومی نام اس قربانی کا زکوۃ رکھا گیا اس لئے جو شخص بھی کچھ نہ کچھ خالص تقویٰ کے ساتھ اور خلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں پیش کرتا رہتا ہے اس کا ایک بہت ہی بڑا فائدہ اس کی ذات کو یہ پہنچتا ہے کہ اس کے اندر تزکیہ کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔اسی لئے اس موضوع کو سمجھنے سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم میں سورۃ جمعہ میں آنحضرت عے کے جو چار کام بتائے گئے ہیں ان میں بظاہر مالی قربانی کا ذکر نہیں۔يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنٍ ) (الجمعہ: ۳) ان چاروں میں بظاہر مالی قربانی کا ذکر نہیں حالانکہ برسیم میں یہ داخل ہے کیونکہ قرآن کریم نے مالی قربانی کا بنیادی مرکزی نام زکوۃ رکھا اور تزکیہ کے اندر قربانی کا اتنا بڑا دخل ہے کہ وہ لوگ جن کو تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ مالی قربانیوں نے ان کے نفوس کی کایا پلٹ دی۔ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے بلند مقام کی طرف انہوں نے حرکت کی ہے اور اس حرکت کا محرک مالی قربانی بنتی - ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مالی قربانی کرتے وقت بسا اوقات انسان کو چاروں طرف سے مشکلات دکھائی دینے لگتی ہیں اور اپنی حالت اور اپنی بیقراری پر رحم آنے لگتا ہے کہ میں کیا کروں۔پھر وہ ایک فیصلہ کرتا ہے جو اس وقت اس کو تھوڑ اسا کرو ابھی معلوم ہوتا ہے کہ میں نے خدا کی خاطر یہ کام کرنا ہے چاہے کوئی تکلیف پہنچے میں یہ کام کروں گا۔وہ ایک لمحہ فیصلے کا اس کی کایا پلٹ دیا کرتا ہے۔اس کے