خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 354

خطبات طاہر جلد ۶ 354 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء نیکیاں اختیار کریں اور ان بدیوں سے بچیں۔ گزشتہ سال کے دوران بھی یہ کہتا رہا ہوں مختلف مواقع پر اس سے پہلے بھی کہتا رہا لیکن بعض خصوصیت کے ساتھ ایسی چیزیں ہیں جن کو جماعت احمد یہ کو کوشش کے ساتھ حاصل کرنا چاہئے اور بعض ایسی ہیں جن کو کوشش کے ساتھ ترک کرنا چاہئے اور اس کے نتیجے میں ان کو دو طرح کی قوتیں نصیب ہوں گی ایک تو دعا کی قوت ، دوسرے ان کی بات میں وزن پیدا ہو جائے گا اور معاشرے کی اصلاح کے لئے جو بات کا وزن ضروری ہے وہ ان کو نصیب ہوگا ورنہ ان کی باتیں بے کار جائیں گی۔ نصیحت کرنے والے میں بعض بنیادی خوبیاں ہونی چاہئیں اگر وہ خوبیاں اس میں پائی جائیں تو اس کی نصیحت چھوٹی سے ہو سادہ بھی ہو اس میں وزن پیدا ہو جاتا ہے،اس میں تبدیلی کی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر وہ خوبیاں اس میں موجود نہ ہوں تو خواہ کتنی ہوشیاری کی باتیں کرنے والا ہو کیسی کیسی ضروب المثل پیش کرے یا کہیں گے امثال پیش کرے اچھی اچھی تب بھی اس کی بات میں وزن نہیں پیدا ہوگا ، دکھاوے کا حسن پیدا ہو سکتا ہے تو تبھی آپ نے دیکھا ہو گا بعض لوگوں کی بات چھوٹی سی بھی ہو وہ دلوں میں حرکت پیدا کر دیتی ہے بعض دفعہ بڑے بڑے عظیم الشان انقلاب برپا کر دیتی ہے۔ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ مثال دی تھی حضرت خلیفہ مسیح الاول گو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی نور اور تقوی بخشا تھا اور آپ کی بات میں بڑا وزن تھا لیکن آپ کی بات کا جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات کے وزن سے موازنہ کا تعلق ہے ایک روایت ہے جو بڑی دلچسپ ہے۔ ایک صاحب روایت کرتے ہیں کہ میرے ایک شرابی دوست تھے جو ویسے نیکی کے خواہشمند تھے ان کے دل میں تمنا تھی کہ میرے اندر تبدیلی پیدا ہوا نہوں نے مجھ سے خود خواہش کا اظہار کیا کہ چلو مجھے قادیان لے کے چلو، شراب میں نہیں چھوڑ سکتا۔ اس کا ایسا میں عادی ہو چکا ہوں کہ جتنا چاہوں کوشش کر کے دیکھ لوں مجھ سے نہیں چھٹتی تو وہاں خدا کے نیک بندے بستے ہیں ہو سکتا ہے ان کے اثر سے میری یہ برائی چھوٹ جائے۔ چنانچہ وہ صحابی جنہوں نے روایت کی ہے وہ ان کو لے کے گئے اور حضرت خلیفہ اسیح الاول کی خدمت میں پہلے لے گئے ۔ حضرت خلیفہ اسح الاول نے ان کو لمبے عرصے تک سمجھایا ، ان کو شراب کی برائیاں بتائیں اور نیکی کی تعلیمیں دیں ، مثالیں دیں لیکن اس کے باوجود جب وہ باہر آئے تو انہوں نے کہا کہ ابھی وہ بات نہیں پیدا ہوئی۔ میں سب کچھ سمجھ گیا ہوں