خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 355
خطبات طاہر جلد ۶ 355 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء لیکن وہ جو آخری قوت ہے ارادے کی وہ نہیں پیدا ہو سکی۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس لے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے صرف چند کلمات کہے مختصر اور وہ مجلس برخاست ہوئی لیکن جب وہ باہر نکلے تو انہوں نے کہا کہ میری ساری جو بدی کی تمنا تھی بالکل اس پر موت آگئی ہے دل ٹھنڈا ہو گیا ہے اس خواہش سے اور یوں لگتا ہے ایک نئی زندگی مجھے عطا ہوئی ہے۔چند کلمات تھے (حیات قدسی صفحہ ۱۵۹-۱۲۵)۔تو اس لئے کلمہ کے اندر رفعت کا یہ بھی مفہوم ہے ایک۔یعنی دو طرح کی قوت ملتی ہے نیکی سے ایک کلمہ کا دعا بن کے مقبول ہو جانا، ایک بندوں میں نصیحت بن کے مقبول ہو جانا۔دوستم کی رفعتیں نصیب ہوتی ہیں اس لئے عملِ صالح کو اختیا ر کرنا ضروری ہے۔اس کے بغیر نہ کلہ کلمہ حسن بنتا ہے نہ اس میں کسی قسم کی رفعت پیدا ہوتی ہے نہ رسوخ پیدا ہوتا ہے۔جو باتیں خاص طور پر میرے پیش نظر ہیں جن کی اطلا میں جب ملتی ہیں تو بہت تکلیف پہنچتی ہے یعنی بعض برائیوں میں سے، ان میں ایک جھوٹ ہے۔جماعت احمدیہ کا جھوٹ سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔اپنی باتوں میں سادگی اختیار کرنی چاہئے اور جہاں تک ممکن ہے جھوٹ کی ہر قسم سے پر ہیز کرنا چاہئے لیکن میں نے دیکھا ہے یہ جھوٹ ہمارے بچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔خاص طور پر تو بعض ممالک میں ویسے ہی جھوٹ کی بیماری بڑی عام ہے۔انگلستان میں آپ دیکھیں اور بعض یورپ کے دوسرے ممالک میں دوسری بدیاں بڑی کثرت سے ملتی ہیں لیکن جھوٹ بہت کم ملے گا۔ان کی بدیوں کے اظہار میں بھی دراصل ایک سچائی پائی جاتی ہے۔اگر آپ اس کا غور سے تجزیہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ جو چھپاتے نہیں اپنی بیماریاں اس کا بھی سچائی سے ایک قسم کا تعلق ضرور ہے۔کہ یہ جو کچھ ہے وہ اس کو ظاہر کر دیتے ہیں۔بدمعاشیاں ہیں گند ہے اس کو بھی ظاہر کر دیتے ہیں یہ الگ مسئلہ ہے کہ یہ ظاہر کرنا خود بھی ایک جرم بن جاتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں جرم عام ہوتا ہے، بے حیائی پھیلتی ہے۔یہ الگ مسئلہ ہے کہ ظاہر کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے مگر اس کے پیچھے ایک سادگی اور ایک سچائی ضرور ہے اور عام روز مرہ کی باتوں میں الا ماشاء اللہ جب پولیس پکڑ کے لے جاتی ہوگی تو میں نہیں جانتا کتنا جھوٹ بولتے ہیں لیکن عام روز مرہ کی زندگی میں ان کو جھوٹ کی عادت ہی نہیں ہے بالکل صاف بات کرتے ہیں۔