خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 353
خطبات طاہر جلد ۶ کے معاملات سے مختلف ہیں۔353 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء اس لئے اگر آج بھی کسی جگہ کوئی شخص یہ فیصلہ کرے کہ اے اللہ ! آج کے دن میں یہ فیصلہ کرتا ہوں میں کمزور ہوں تو مجھے طاقت بخش میں اس فیصلے پر قائم رہوں لیکن نیست میری اچھی ہے اس لئے میری دعاؤں کی قبولیت کو بڑھا دے۔یہ جو میں کہہ رہا ہوں دعاؤں کی قبولیت کا اعمالِ صالحہ سے تعلق ہے یہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے اچھے کلمات کو عمل صالح رفع بخشتے ہیں۔وہ کون سے اچھے کلمات ہیں۔سب سے اہم صفات باری تعالیٰ ، اس کی حمد ہے۔اس کے بعد درود کی باری آتی ہے، تیسرے نمبر پر دعائیں ہیں۔ان تینوں چیزوں کو جو کلماتِ حسنہ شمار ہوں گی ان تینوں چیزوں کو عمل صالح رفعت بخشتے ہیں۔ورنہ جس طرح کمزور کا پھینکا ہوا پتھر بعض دفعہ ہاتھ سے ہمشکل اچھلتا ہے اور واپس گر جاتا ہے اور بعض بڑی قوت سے پھینکتے ہیں اور بڑا اونچا چلا جاتا ہے۔اسی طرح دعا ئیں کرنے والوں کی دعائیں ہیں کوئی چلتی ہی نہیں ، اٹھتی ہی نہیں بے چاری وہ اٹھتی ہے اور گر جاتی ہے،اس میں پرواز کی طاقت ہی نہیں۔کچھ ایسے ہیں جن کی دعاؤں میں ایسی پرواز کی طاقت ہے کہ وہ دل میں پیدا ہوتی ہے اور عرشِ الہی میں مقبول ہو جاتی ہے تو ان کے درمیان بہت سے مراحل ہیں بہت سے مختلف درجات کے انسان ہیں۔ہر انسان کو کوشش یہ کرنی چاہئے کہ کچھ تو طاقت بڑھائے اپنی۔اس لئے عملِ صالح کا جو دعا سے تعلق ہے اس کو ضرور پیش نظر رکھیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آج چونکہ مخصوص دعاؤں کا دن ہے ویسے بھی جمعہ کا دن بہت ہی مبارک ہوا کرتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے بعد عصر تک کی جو حالت ہے خاص طور پر دعاؤں کی مقبولیت کا وقت ہوتا ہے ( ترندی کتاب الجمعۃ حدیث نمبر : ۴۵۱) اور جمعہ جو رمضان شریف میں ہو پھر وہ جمعہ جو جمعتہ الوداع کے طور پر بڑی کثرت کے ساتھ منایا جا رہا ہوا اور عبادت کرنے والوں کی کثرت کی برکت بھی اس کو حاصل ہو جائے پھر وہ جو آخری عشرہ کی ایسی تاریخ میں ہو جس کا لیلۃ القدر سے بھی تعلق ہے تو یہ ایک خاص دن ہے۔اس لئے اس دن سے جس قدر بھی ممکن ہے استفادہ کرتے ہوئے اپنی جھولیاں بھر لیں۔جہاں تک اعمالِ صالحہ کا تعلق ہے چند باتیں خاص طور پر میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔آپ کو دعا کی قبولیت کی لالچ دے کر میں نے سوچا کہ اس رنگ میں دوبارہ تحریک کروں کہ یہ