خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد ۶ 31 خطبہ جمعہ ۹ / جنوری ۱۹۸۷ء اب تک جو تبدیلیاں پیدا ہم کرسکیں ہیں اگر چہ ہر تبدیلی پر دل شکر سے بھرتا ہے لیکن ذمہ داری کا جہاں تک احساس ہے اس پہلو سے اگر آپ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم وقت سے بہت ہی پیچھے رہ گئے ہیں۔ساری دنیا کو خدا تعالیٰ کے قریب کرنا اور حق کے رستے پہ چلا دینا اتنا بھاری ، اتنا بڑا کام ہے کہ جہاں تک ہماری جماعت کی تعداد کا تعلق ہے، استطاعت کا تعلق ہے بالکل ناممکن نظر آتا ہے لیکن جہاں تک وقت کے اس پیمانے کا تعلق ہے جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھا ہے اور اس پیمانے کو آنحضرت ﷺ نے کس طرح استعمال فرمایا تھا اس بات کی طرف جب قرآن کریم ہمیں متوجہ کرتا ہے تو ناممکن بات ممکن ہوتی دکھائی دیتی ہے۔اب میں اس فلسفے کی روشنی میں چند منٹ واقعاتی تجزیہ کر کے آپ کو بتاتا ہوں کہ انگلستان کی مثال دی تھی۔انگلستان کی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک ایسی جماعت ہے جو مصروف ہے اور عام طور پر جو موازنہ کیا جاتا ہے اس کے لحاظ سے اسے صف اول کی جماعتوں میں شمار کرنا چاہئے۔لیکن اس کے باوجود جب آپ قریب کے نظر سے جائزہ لیں تو اتنے خلا آپ کو نظر آئیں گے کہ ہوش اڑنے لگتے ہیں ان کو دیکھ کے۔ہر جماعت میں نزدیک کی نظر سے ڈوب کر دیکھیں تو آپ کو جگہ جگہ خلا اور جگہ جگہ وقت کا ضیاع اس کثرت سے دکھائی دے گا کہ حواس باختہ ہو جاتا ہے آدمی کہ اتنا بڑا ہمارا قیمتی وقت ، اتنے بڑے کام والی جماعت کا اور اتنا ضائع ہو رہا ہے اور اس طرح ضائع ہو رہا ہے۔بے مصرف جس کو میں وقت کہتا ہی نہیں کیونکہ خدا کی تعریف کے مطابق تو جو بے مصرف لمحات ہیں وہ وقت نہیں ہیں۔سکوت ، جمود، موت اس کا نام رکھ دیں وقت نہیں رکھ سکتے۔تو یہ موت کا حصہ ہی اتنا بڑا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ اتنا قیمتی وقت رکھنے والی جماعت جو مستعد جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے اس کے افراد میں سے اکثر کا وقت بہت حد تک اس طرح ضائع ہوتا ہے کہ کوئی بھی عمل اس سے پیدا نہیں ہو رہا اور پھر جب آپ اس وقت کو لیتے ہیں جو مصروف ہے جو حقیقت میں وقت کہلانے کا مستحق ہے، اس میں سے بھاری حصہ ایسا ہے جو اِلی رَبِّكَ فَارْغَبُ کے مطابق نہیں ہے وہ باطل کی طرف حرکت کر رہا ہے یا بے معنی ہے۔جہاں تک دنیا کے علوم کا حصول اور اس کی کوششوں کا تعلق ہے اس کو میں ضائع نہیں کہتا، اس کو میں باطل نہیں کہتا۔میری مراد یہ ہے کہ اس وقت کے اندربھی آپ کے ذہن کی گردش ایک ہی