خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 32
خطبات طاہر جلد ۶ 32 32 خطبہ جمعہ ۹ / جنوری ۱۹۸۷ء وقت میں خدا کی طرف بھی حرکت کر سکتی ہے اور خدا کے بغیر بھی حرکت کر سکتی ہے۔قرآن کریم نے یہ تفریق ہی نہیں کی دنیا کے کام کی یا دوسرے کام کی۔قرآن کریم کہتا ہے سارا کام دنیا کا ہے تم دنیا کے اندر رہو گے۔دنیا کے جو حالات ہیں تم پر گزریں گے۔تم دنیا میں تبدیلیاں پیدا کر رہے ہو گے اس طرح خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اور وقت کو اکٹھا کر دیا ہے Space اور Time کو ایک جگہ باندھ دیا ہے۔یہ ہے خلاصہ زندگی کا۔فرمایا ایسی حالت میں تم ہر کام کر سکتے ہو کہ يَذْكُرُونَ الله قيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ تمہارا قیام ،تمہارے اٹھنا، تمہارے بیٹھنا، تمہارا لیٹنا تمہارا سب کچھ ذکر الہی سے معطر ہو جائے گا۔ایک Scientist جب کام کر رہا ہے تو اس کے ذہن کو بار بار اپنے رب کی طرف منتقل ہوتے رہنا چاہئے اور اِلى رَبِّكَ فَارْغَبْ کا ایک یہ مضمون بھی ہے، ایک یہ مفہوم بھی ہے۔جو چیزیں وہDiscover کرتا ہے جس چیز کا جائزہ لے رہا ہے، اس کا دماغ ہمیشہ مستقلاً چونکہ خدا کے تصور میں ڈوبا ہوا ہے اس لئے اس کو ہر جگہ خدا کا جلوہ دکھائی دے دے رہا ہوتا ہے۔ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو چاند کو دیکھ کر نظم فرمائی اس میں یہی مضمون - ایسا شخص جب سیر کے لئے بھی جاتا ہے تو بظاہر وہ اِلی رَبَّكَ فَارْغَبُ کا مضمون نہیں ہے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ہم پڑھتے ہیں کہ آپ ڈلہوزی جا رہے تھے تو خوبصورت نظاروں پر کھڑے ہو کر بعض دفعہ ذکر الہی میں اس طرح ڈوبے اور بعض دفعہ وہاں نوافل پڑھے خاص طور پر اللہ کی یاد میں تو پھر یہ مضمون کھل جاتا ہے کہ دنیا قرآن کریم کے تصور کے مطابق اس طرح نہیں بانٹی جارہی کہ کچھ وقت غیر کا ہے کچھ خدا کا ہے۔وقت ہے ہی خدا کا۔وقت ہمارا ہے ہی نہیں۔جو خدا کا وقت خدا کو لوٹاتے ہیں جس حد تک لوٹاتے رہتے ہیں، وہ امین بندے ہیں خدا کے اور ہر حالت میں وہ خدا کو لوٹا رہے ہوتے ہیں۔بیوی سے محبت کرتے ہیں تب بھی وہ وقت کو خدا کو لوٹا رہے ہوتے ہیں۔آنحضور ﷺ نے فرمایا جو اس وجہ سے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالتا ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ حسن سلوک کرو اور پیار کا اظہار کرو تو یہ بھی اس کی عبادت ہے۔( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر : ۵۶) تو دیکھیں جو قرآن نے وقت کی تعریف کی ہے اس کی رو سے اب یہ جھگڑا ختم ہو گیا کہ کتنا وقت ہم خدا کو دیں اور کتنا غیر اللہ کودیں اور یہ بحث غائب ہوگئی کہ کونسا وقت ہم غیر اللہ کو دینے پر مجبور