خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 30
خطبات طاہر جلد ۶ 30 50 خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۷ء حق میں اس کی لذت زیادہ سے زیادہ یہ ہوگی کے سو جائے گا یا کسی جگہ آرام سے ٹک کر کہیں غور شروع کر دے گا۔ضروری نہیں کہ خدا کی حالت پر غور کرے۔آنحضرت ﷺ کی لذت اس کے مقابل پریا تو Active عبادت میں تھی ، باشعور عبادت میں اور یا ایسی نیند میں جس میں آپ خود فرماتے ہیں کہ میری نیند اور تمہاری نیند میں فرق ہے تنام عینی ولا ينام قلبی ( بخاری کتاب المناقب حدیث نمبر ۲۳۰۴۰) که میری آنکھ تو سو جاتی ہے مگر میرا دل نہیں سوتا اور یہاں دل کی بھی آپ نے ایک تعریف فرما دی جس سے آج کل جو جھگڑا ہے کہ قرآن کریم جب دل کہتا ہے تو کیا مراد ہے۔Sub-Conscious Mind مراد ہے۔قلب سے مراد یہاں ہے کہ میرے اندرونی دل میں جو ہے ہر وقت ذکر الہی گھوم رہا ہے۔اس لئے نیند کی حالت میں بھی جو لذت ہے، جو سکون ہے، اس کی بنیادی وجہ آنحضرت ﷺ کے لئے یہ تھی کہ نیند کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر ذہن میں گھوم رہا ہوتا تھا اور آپکو بھی یہ تجربہ ہوگا کہ اگر دن برا گزرا ہو، خطرات میں گزرا ہو تو رات بے چین نیند آتی ہے یا کل کے خطرات ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا ذہن بھی اس وقت کام کر رہا ہے لیکن غلط رستوں پر کام کر رہا ہے۔سکون دینے کی بجائے آپ کو خراب کر رہا ہے، بے چین کر رہا ہے اور طرح طرح کے خوف دلا رہا ہے۔ایک آدمی جو گناہوں کے متعلق سوچتا ر ہے ہر وقت اس کے ذہن میں جو نیند کے وقت حالتیں ہیں وہ بھی گناہ کی حالتیں گزرتی ہیں۔تو آنحضرت ﷺ کا وقت نہ صرف یہ کہ مصروف تھا اورلمحہ لمحہ مصروف تھا بلکہ اس وقت کا کام بھی خدا تعالیٰ کے لئے تھا اور اس وقت کا آرام بھی خدا تعالیٰ کے لئے تھا۔ہر لمحہ اور لمحے کا ہر حصہ اس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کا مصروف چلا ہے اور بھر پور چلا ہے کہ آپ نے بعض ایسی راتیں گزاریں ہیں کہ ایک ایک رات ان میں سے عام انسان کی تمہیں تمہیں ہزار راتوں سے زیادہ بھر پور تھی اور معنی خیز تھی۔تو جماعت احمدیہ کو اپنے وقت کی قیمت کا احساس ان پیمانوں کو پیش نظر رکھ کر کرنا چاہئے۔ہمارے سپر د جو کام ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔اتنے زیادہ ہیں کہ اگر آپ جائزہ لیں کہ انگلستان کی حالت تبدیل کرنے کے لئے ہمیں کتنے سال چاہئے؟ تو اگر کوئی باشعور انسان ہو اور حساس ہو اور دین کی محبت رکھتا ہو اور اس بات میں صرف یہی فکر ہر وقت اس کو دامن گیر ہو تو اس کو اپنی صحت کی فکر کرنی چاہئے۔بظاہر ایک ناممکن کام نظر آتا ہے۔کتنے سال سے جماعت نے محنت کی ہے اور اس کے بعد