خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 325
خطبات طاہر جلد ۶ 325 خطبہ جمعہ ۸ رمئی ۱۹۸۷ء بھی ان کی برکتیں بے وفائی نہیں کرتیں ہاں لوگ ہیں جو برکتوں سے بے وفائی کر دیا کرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ جماعت کو بھی توفیق عطا فرمائے اور حضرت سیدہ مرحومہ کی اولا دکو خصوصیت کے ساتھ یہ توفیق عطا فرمائے کہ آپ تو جدا ہو گئیں لیکن آپ کی اولا داور جماعت آپ کی برکتوں سے بے وفائی نہ کرے تا کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ برکتیں ہمارے اندر زندہ اور باقی اور پائندہ رہیں۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: ابھی جمعہ کی نماز کے بعد حضرت پھوپھی جان کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔آپ کے ذکر کے رض سلسلے میں میں یہ بات بھی بتانا چاہتا تھا کہ حضرت پھوپھا جان یعنی حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کو بھی خدا تعالیٰ نے ایک بہت ہی پیار کرنے والی شخصیت عطا فرمائی تھی۔بہت ہی مہمان نواز بہت ہی خلیق انسان تھے اور اس لحاظ سے یہ جوڑ بہت ہی مناسب تھا۔اُن کی طبیعت میں سادگی تھی اور سادگی کے ساتھ حضرت پھوپھی جان کی بعض خاص ایسی خوبیاں تھیں جن تک ان کی رسائی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ایک انتہائی اعلیٰ ، ایک مثالی نمونے کا جوڑا تھا۔جن خوبیوں کا میں نے ذکر کیا ہے اس میں مثلاً ادب اور ذوق شعری ہے۔حضرت پھوپھا جان کو یہ شعری ذوق ملا ہی نہیں تھا اور یہ شعر پڑھتے بھی تھے اگر تو صحیح وزن کے ساتھ بعض دفعہ نہیں پڑھ سکتے تھے۔اُس کے مقابل پر حضرت پھوپھی جان کو نہایت ہی لطیف شعری ذوق عطا ہوا تھا۔خود بہت ہی صاحب کمال شاعرہ تھیں لیکن اپنے کلام کو چھپاتی تھیں لوگوں سے اور اکثر چند سطر لکھ کر ایک طرف پھینک دیں اور پھر نظر سے وہ کلام غائب ہو گیا۔چونکہ مجھے بھی بچپن سے ذوق رہا ہے شعر کا اس لئے پھوپھی جان کے ساتھ میرا خاص تعلق اس لئے سے بھی ایک تھا کیونکہ ان تک رسائی تھی اور وہ بعض دفعہ بڑے پیار کے ساتھ مجھے اپنا کلام سنا بھی دیا کرتی تھیں۔ابھی کچھ عرصہ پہلے میں جب ملاقات کے لئے گیا تو ایک بہت ہی پرانی نظم جو حضرت پھوپھی جان نے مجھے قادیان کے زمانے میں سنائی تھی اس کے ایک دو شعر میں نے ان سے کہے تو عجیب چہرے پر مسکراہٹ پیدا ہوئی کہ تم اب تک وہ باتیں یادر کھتے ہو۔چنانچہ یہ حضرت پھوپھا جان کے ساتھ اگر چہ اس لحاظ سے طبیعتوں کا جو طبعی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ایسی محبت ، ایسا غیر معمولی تعلق آپس میں ، ایسا ساتھ ، ایسی وفا۔یہ اس لئے میں ذکر کر رہا ہوں خصوصیت کے ساتھ کہ بعض لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ جی! ہمارا طبیعتوں کا جوڑ نہیں ہے۔جو صاحب کرام لوگ ہوں وہ طبیعتوں کا جوڑ نہ بھی ہو تو اچھی باتیں نکال