خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 324

خطبات طاہر جلد ۶ 324 خطبہ جمعہ ۸ رمئی ۱۹۸۷ء برکتیں کہاں سے ڈھونڈیں گے یہ کہنے والا جھوٹا ہے۔وہ برکتیں جماعت کو ورثے کے طور پر خدا تعالیٰ عطا فرما تا چلا جاتا ہے۔ہاں اگر ورثہ پانے والے اس ورثے کو ضائع کر دیں، ان برکتوں سے منہ موڑ لیں، ان نیکیوں کو الوداع کہہ دیں تو پھر لازما مرنے والا اپنی نیکیوں کے ساتھ باقی پیچھے والوں کو الوداع کہہ دیا کرتا ہے اور خود ہی جدانہیں ہوتا بلکہ اس کی برکتیں بھی جدا ہو جایا کرتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کو ہمیشہ صاحب برکت وجودوں سے ایسا گہرا وفا کا تعلق پیدا فرمائے کہ ان سے ہی نہیں ان کی برکتوں سے بھی چمٹ جائیں اور یہی وہ صبر کا مضمون ہے جس کو میں پچھلے ہفتہ کھول کر بیان کرنے کی کوشش کرتارہا اور انشاء اللہ آئندہ ہفتہ بھی اسی مضمون پر میں روشنی ڈالوں گا۔کچھ آیات میں نے منتخب کیں تھیں جن پر آج بیان کرنا مقصود تھا لیکن چونکہ وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے میں اتنا ہی کہہ کر احباب جماعت کو تلقین کرتا ہوں خصوصیت کے ساتھ کہ صبر کے اس مضمون کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں ، اپنے پلے باندھ لیں کہ اچھی باتوں کو پکڑ لینا، اُن پر قائم رہنا، اُن کو کسی حالت میں نہ چھوڑنا، خواہ کیسی ہی بڑی آزمائش ہو، نیکیوں سے وفا کرنا یہی دراصل نیکوں سے وفا کرنے کی دوسری صورت ہے۔وہ لوگ جو نیکیوں سے وفا نہیں کرتے وہ نیکیوں کے بھی بے وفا ہوتے ہیں۔اس لئے اگر آپ کی محبت اچھے لوگوں سے بچی ہے، اگر آپ حقیقت میں ان سے پیار کرتے ہیں اور آپ وفادار ہیں تو ان کے جانے کے بعد اپنی وفا کو اس طرح ثابت کریں کہ ان کی نیکیوں سے چمٹ جائیں اور کسی قیمت پر ان سے جدا نہ ہوں۔حضرت اماں جان نے یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد آپ کی اولا دکو ایک بہت ہی سادہ لیکن بہت ہی پیارے فقرے میں سمجھائی۔آپ نے اولا دکو اکٹھا کیا اور فرمایا دیکھو! تم بظاہر یہ دیکھو گے کہ اس گھر میں کچھ بھی نہیں۔کوئی مال دولت نہیں، کچھ دنیا کی جائدادیں نہیں ہیں، کچھ آرام کے سامان نہیں ہیں تمہیں یوں محسوس ہوگا کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھے اور اپنی پیاری اولاد کو خالی ہاتھ چھوڑ گئے اور اپنے گھر میں پیچھے کچھ بھی نہ باقی رکھا لیکن تم غلط سمجھتے ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے پیچھے اللہ کو ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں اور اس سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔( تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ ۵۴۸) پس صاحب برکت وجود سب سے بڑی برکت یعنی اللہ کو پیچھے چھوڑ جایا کرتے ہیں اور کبھی