خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 304
خطبات طاہر جلد ۶ 304 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء بیان ہوئی ہیں یعنی جو خوبیاں ہیں ان کے برعکس ج بر همس جو چیزیں ان خوبیوں کے مقابل پر صف آرا ہوا کرتی ہیں وہ بھی آج احمدیت کے دشمن میں پہلے سے زیادہ زور پکڑ رہی ہیں اور شدت اختیار کرتی چلی جارہی ہیں ۔ گویا کہ حق اور باطل ایک دفعہ پھر ایک بہت ہی بڑے معرکے میں صف آرا ہو چکے ہیں جن معرکوں کا نتیجہ زندگی یا موت ہوا کرتا ہے۔ ایسے موقع پر جب اس قسم کی صف آرائی ہو جائے جبکہ دونوں طرف یہ فیصلے ہو جائیں کہ ہم اپنے موقف کو نہیں چھوڑیں گے جب نیکیوں پر قائم لوگ یہ عہد کر لیں کہ ہم صبر خدا کی خاطر اختیار کریں گے اور جو کچھ بھی ہو جو قیمت بھی ہمیں دینی پڑے ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑنا اور خدا کی محبت نے جو نیکیاں ہمیں عطا کی ہیں ہم ان کی حفاظت کریں گے۔ تو اس کے مقابل پر دشمن اگر غالب ہے تو وہ لازما پوری قوت صرف کرے گا کہ جس طرح بھی ہو اس مقام سے مومنوں کو ہٹا دیا جائے ۔ یہ جب صف آرائی پوری قوت کے ساتھ ہوتی ہے، پورے عزم کے ساتھ ہوتی ہے تو پھر اس کا انجام لا زما یہ نکلتا ہے کہ ایک قوم زندہ رہتی ہے اور ایک قوم مر جاتی ہے۔ ایک قوم مٹنا شروع ہوتی ہے اور بڑی تیزی سے مٹنا شروع ہوتی ہے اور دوسری قوم کو خدا تعالی مزید قوت عطا کرتا ہے اور قوت پر قوت عطا فرما تا چلا جاتا ہے۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ (الانفال :۴۳) یہ وہ مضمون ہے فرماتا ہے کہ پھر زور کا فیصلہ نہیں ہو گا خدا کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے موقع پر بینت کہ ذریعے فیصلہ ہوگا۔ جس کو دلیل زندہ رکھے گی ، جس کو استدلال زندہ رکھے گا ، جس کو حق زندہ رکھے گا وہ بہر حال زندہ رہے گا اور جس کے پاس نہ دلیل ہے، نہ حق ہے، نہ انصاف ہے اسے مٹنا ہوگا۔ پس یہ وہ دور ہے جس میں ہم داخل ہوئے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ بظاہر یہاں کسی صف آرائی کا ذکر نہیں فرمایا گیا تھا پہلے بعض صفات حسنہ اختیار کرنے کی تلقین تھی مگر انجام کار فرمایا یہی لوگ ہیں جو جیتیں گے ، یہی لوگ ہیں جو بالآخر غالب آئیں گے۔ تو صبر کے لفظ میں جو باتیں پنہاں تھیں ، جو جد و جہد مخفی تھی اس کا کھلم کھلا اظہار اسی آیت کے آخری ٹکڑے میں فرما دیا کہ صبر اس لئے کہ تم خدا کی محبت میں ایک عظیم جدو جہد میں داخل ہو چکے ہو۔ صبر اس لئے کہ تمہاری مخالفانہ طاقتیں تمہیں ضرور مٹانے کی کوشش کریں گی لیکن اگر تم ان نیکیوں کو پکڑے رہو گے، اگر تم ان نیکیوں سے وفا کرو گے اور ثبات قدم دکھاؤ گے تو خدا یہ فرماتا ہے أُولَئِكَ لَهُمْ