خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 303
خطبات طاہر جلد ۶ 303 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء کے بدلے کوئی اچھی چیز آ جائے۔محض بری چیز کو مٹانے کا دعوی لے کر اٹھو گے تو ہو سکتا ہے جو کچھ دنیا کو حاصل ہے اس سے بھی اس کو محروم کر دو۔ایک کھنڈر کسی کو برا لگتا ہے کئی پہلوؤں سے، اس کی عمارت کی شکل ہو یا ویسے اس خیال سے کہ یہاں چور بھی چھپ سکتے ہیں، یہاں کیڑے مکوڑے بھی بیٹھے ہوئے ہیں یہاں جنگلی جانور بھی آجاتے ہیں ، اس کھنڈر کو مٹانے کے لئے دو طرح کے پروگرام ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ اس کھنڈر کو مٹا کر اس کی جگہ اس سے بہتر عمارت بنائی جائے اور ایک یہ کہ بس برائی سے نفرت ہے ہم نے کھنڈر کو مٹا کے چھوڑنا ہے۔بسا اوقات یہ دوسرا پروگرام انسان کو عام فائدوں سے بھی محروم کرتا چلا جاتا ہے۔کھنڈر کے کچھ نہ کچھ فوائد بھی ہوتے ہیں۔کچھ نہ کچھ تو وہ بعض غریبوں کے لئے پردے کا موجب بن جاتا ہے ان کے سر پر سایہ کر دیتا ہے جنگلی جانور بھی اس میں پناہ لیتے ہیں ان کا بھی تو آخر پناہ کا حق ہے۔تو کھنڈر خواہ کیسا بھی بدنما ہو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچا رہا ہے۔اسی طرح مذاہب ہیں۔مذاہب کے بھی کھنڈر چلے آرہے ہیں۔ایک مومن جو جاہل ہو یعنی بظاہر مومن ہولیکن حقیقت میں مومن نہ ہو قرآن کریم کے معارف سے ناواقف ہو وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ مذہب ہمیں بڑا برا لگتا ہے کیونکہ یہ اصل نہیں رہا۔اصل عمارت جو تعمیر کی گئی تھی وہ بہت خوبصورت تھی اس لئے ہمارا حق ہے کہ اس کو مٹا دیں۔قرآن کریم اس کو یہ حق نہیں دیتا۔وہ کہتا ہے اگر کھنڈر ہے تو ہے لیکن تم تب مٹا سکتے ہو اگر ان لوگوں کے دل میں پہلے اسلام تعمیر کرو۔اگر اسلام کی عمارت بناتے چلے جاؤ تو یہ کھنڈر خود بخود مٹتے چلے جائیں چ گے۔نیکی کے بدلے برائی دور کرو۔فی ذاتہ برائی دور کرنا تمہارا مشغلہ نہیں نہ اس کی خاطر تم پیدا کئے گئے ہو لیکن ہاں ہر برائی کے بدلے ایک نیکی رکھ دو، ہر بد زیب چیز کی بجائے ایک حسن عطا کر دو اس مقام کو جہاں کوئی بد زیب چیز دکھائی دی تھی تو یہ تمہاری شان کے مطابق ہے اور فرمایا اگر اللہ کی محبت کے نتیجے میں تم نیکیاں اختیار کرتے ہو تو لازماً تمہیں یہی طریق اختیار کرنا ہوگا يَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ ایسے لوگ ہی ہیں جولا ز ما انجام کا ر غالب آنے والے ہیں۔اس وقت جماعت احمد یہ بالعموم ایسے دور میں داخل ہے جہاں اس آیت میں بیان کردہ صفات جو مومنوں میں ہونی چاہئے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اور زیادہ نمایاں ہوتی چلی جارہی ہیں، جلا پکڑ رہی ہیں۔وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں جو منفی صفات