خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 305

خطبات طاہر جلد ۶ 305 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء عُقْبَى الدَّارِ یقیناً انجام کار یہی ہیں جو غالب آئیں گے ان کے حق میں یہ فتح لکھی جائے گی۔پس جماعت احمدیہ جس نازک دور میں سے گزر رہی ہے مسلسل میری یہی تعلیم ہے کہ صبر کو اس تمام وسیع معنوں کے ساتھ پیش نظر رکھ کر خدا تعالیٰ کی راہوں پہ وفا دکھا ئیں اور جس قدر بھی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں خدا کی خاطر برداشت کرتے چلے جائیں اور مایوس نہ ہوں۔فتح آپ کے اپنے اختیار میں نہیں ہے، فتح عطا کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور بعض دفعہ بہت وسیع فتح کے لئے وسیع محرکات جاری ہو چکے ہوتے ہیں جو اندر اندر کام کر رہے ہیں کہیں آپ کو نظر آجاتے ہیں کہیں آپ کو نظر نہیں آتے لیکن قومی انقلابات کے لئے بعض دفعہ وسیع پروگرام خدا کے پیش نظر ہوتے ہیں اور ان وسیع پروگراموں کے انجام تک پہنچنے کے لئے بھی صبر کی ضرورت ہے۔بہت سے کمزور رستے میں ہی ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور کنارے پہ بیٹھ جاتے ہیں یا رستے بدل لیتے ہیں۔تو یہ سارا مضمون شروع سے آخر تک صبر کا متقاضی ہے اور رمضان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ موقع فراہم فرما دیا کہ ہم اس صبر کو پہلے سے بڑھ کر اختیار کریں اور زندگی کے ہر شعبہ میں صبر کا نمونہ دکھا ئیں۔رمضان کا دور وہ دور ہے جس میں تمام انسانی صلاحیتیں صبر چاہتی ہیں۔زندہ رہنے کے لئے قوت کی ضرورت ہے، ایک انرجی (Energy) کی ضرورت ہے اور اس کے لئے پانی اور کھانا یا جو بھی شکلیں اس کی ہوں پانی کی بجائے دودھ ہو یا جن لوگوں کو جوس کی عادت ہے وہ جوس پیتے ہوں بہر حال انرجی جس کی انسان کو زندہ رہنے کے لئے ضرورت ہے اس کی مختلف شکلیں ہیں۔رمضان شریف میں انسان ہر قوت سے جو اس کی زندگی کے لئے ضروری ہے منہ موڑ لیتا ہے اللہ کے چہرے کی خاطر، اللہ کے منہ کی خاطر اور صبر دکھاتا ہے اور یہ صبر بعض ملکوں میں پیاس کی آزمائش کڑی پیش کرتا ہے اور بعض ملکوں میں بھوک کی آزمائش زیادہ کڑی شکل میں پیش کرتا ہے۔جتنا آپ شمال میں جاتے چلے جائیں اتنے دن لمبے ہوتے چلے جاتے ہیں اور شدید بھوک میں انسان مبتلا ہو جا تا ہے۔بعض دوستوں نے مجھے لکھا ناروے سے پیچھے جب اور بھی دن لمبے تھے زیادہ گرمیوں میں روزے آرہے تھے کہ اتنا لمبا دن ہو گیا ہے اور دفتر میں کام کرنا ہوتا ہے یا بعض فیکٹریوں میں ہم نے کام کرنا ہوتا ہے کہ روزہ کھلتے کھلتے موت آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوتی ہے۔اس قدر شدید تکلیف میں سے گزرنا پڑتا ہے۔تو صبر وہاں بھی ضروری ہے اور پاکستان میں نسبتا دن چھوٹے