خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 298

خطبات طاہر جلد ۶ 298 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء ہے۔آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلاموں نے یہ اعلان خالصہ وجہ اللہ کے لئے کیا، اللہ کی رضا کی خاطر کیا اور اس کے نتیجے میں مخالفت شروع ہوئی لیکن وہ مخالفت رفتہ رفتہ دب گئی اور غائب ہوگئی کیونکہ اسی اعلان کی برکت نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلاموں کو غلبہ عطا فرما دیا۔پس مخالف کی مخالفت کیونکہ تقویٰ پر بنی نہیں ہوتی۔وہ اس وقت تک مخالفت کرتا ہے جب تک اسے غلبہ نصیب ہو جب کمزوری کی حالت میں چلا جائے تو وہ مخالفت کو چھوڑ دیتا ہے۔اس وجہ سے کچھ عرصہ کے بعد مخالفت تو دب جاتی ہے لیکن یہ مطلب نہیں کہ اس کے ساتھ ہی اللہ کی محبت اور اس کی رضا بھی مٹ جاتی ہے۔اس لئے ایک لمبے عرصے تک یہ مضمون چلتا ہے لیکن جب میں کہتا ہوں کہ بعد میں یہ مخالفت ختم ہو جاتی ہے تو مراد یہ ہے کہ دراصل ایک نبوت سے دوری کے بعد چند نسلوں کے بعد یہی اعلان ایک رسمی اعلان بن جاتا ہے اور جب یہ رسمی اعلان بنتا ہے پھر کسی مخالفت کی ویسی ہی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اس دور میں جب کبھی انفرادی طور پر کوئی عشق کے نتیجے میں یہ اعلان کرے تو اس کی پھر مخالفت شروع ہو جاتی ہو۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد احمدیت کی تاریخ تک اگر چہ مہم کے طور پر آپ کو درمیان میں یہ لا الہ الا اللہ کے خلاف مہم نظر نہیں آئے گی لیکن انفرادی طور پر اللہ کی محبت کا دعویٰ کرنے والے ، خدا کے عشق کا گیت الاپنے والے اور خدا کو ایک کہنے والوں کے خلاف آپ کو بارہا مخالفت کی لہریں اٹھتی ہوئی دکھائی دیں گی جنہوں نے وقتاً فوقتاً امت محمدیہ میں بہت ہی تکلیف دہ ابواب کا اضافہ کیا ہے لیکن دو بدو لڑائی لا الہ الا اللہ کے اعلان کے ساتھ گویا قوم دوحصوں میں بٹ چکی ہو۔ایک وہ جو مٹا کر چھوڑے گی اس اعلان کو اور ایک وہ ہیں اس کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت مستعد اور تمام جان کے ساتھ مستعد رہے گی۔یہ وہ نمایاں پہلو ہے جو نبوت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس کی بنیاد اللہ کی محبت میں ہے۔رضائے باری تعالیٰ کی خاطر جب بھی کوئی نیکی اختیار کی جائے گی اس وقت اس کی مخالفت ضرور ہوگی۔پس آنحضرت ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کی ہر نیکی کا امتحان تھا۔میں نے ایک مثال کے طور پر بنیادی نیکی کا ذکر کیا ہے مگر یہ مراد نہیں ہے کہ صرف اسی کی مخالفت ہوتی ہے۔ہر نیکی جو دور نبوت میں کی جاتی ہے اس کی مخالفت ہوتی ہے، ہر حرکت جو انسان خدا کی رضا کی خاطر کرتا ہے اس کی