خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 297

خطبات طاہر جلد ۶ 297 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء سکے۔اگر کسی کا عقیدہ ہے کہ خدا زیادہ ہیں اور کوئی شخص یہ کہے کہ خدا ایک ہے تو فطرتا اور طبعا اس کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہئے کیونکہ جس کے پاس زیادہ ہے وہ زیادہ پر خوش ہوگا۔اگر واقعہ زیادہ ہیں اور کوئی ایک پر راضی ہوتا ہے تو وہ دوسرا سے بیوقوف سمجھے گا محروم سمجھے گا۔یہ سمجھے گا کہ ہیں تو بہت زیادہ یہ بیوقوف ایک پر ہی راضی ہو گیا ہے لیکن اس پہ غصہ آنے کی کوئی وجہ نہیں۔بہر حال تمام نیکیوں میں سب سے زیادہ بنیادی نیکی اپنے خالق کے وجود کا اعتراف اور یہ اعلان ہے کہ ہمارا ایک خالق اور مالک موجود ہے اور پھر یہ اعلان کہ وہ ایک ہی ہے اسی سے ساری طاقتیں، ہرقسم کی دوئی پھوٹتی ہے اور رفتہ رفتہ ایک ان گنت جہان دکھائی دینے لگتا ہے لیکن بنیادی طور پر آخری نکتے کے طور پر ہر چیز ایک ہی منبع ، ایک ہی سرچشمہ سے پھوٹتی ہے، یہ ہے تو حید کا اعلان۔لیکن آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اس اعلان کی کتنی سزا آپ کو اور آپ کے غلاموں کو دی گئی اور یہ کوئی نئی کہانی نہیں تھی۔ازل سے جب یہ اعلان ہوا ہے یہ سزادی جاتی رہی ہے اور جب بھی یہ سزادی جاتی ہے اس وقت آپ تلاش کریں تو وہ قرب نبوت کا زمانہ ہوگا۔اس وقت یہ سزا کیوں دی جاتی ہے؟ بیچ کے زمانے میں یہ سزا کیوں ختم کر دی جاتی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ تو وہی رہتا ہے لیکن ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِمْ کا مضمون اس میں سے غائب ہو جاتا ہے بعض اوقات۔قرب نبوت کے زمانے میں جب انسان لا اله الا اللہ کا اعلان کرتا ہے تو اللہ کی محبت کی بنا پہ ایسا کر رہا ہوتا ہے۔خالصہ خدا کی رضا کی خاطر ایسا کرتا ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ کی تقدیر اسے ابتلا میں ڈالتی ہے۔اس وقت اس کی محبت اور اس کے خلوص کی آزمائش کی جاتی ہے، پر کھا جاتا ہے کہ واقعہ اپنے عقیدے میں وہ سچا تھا بھی کہ نہیں لیکن اگر یہ اعلان رسماً ہونا شروع ہو جائے ، اگر اس کا دل کے جذبات سے کوئی تعلق نہ ہو۔خدا کی رضا حاصل کرنے کی خاطر نہیں بلکہ اس لئے کہ ورثے میں یہ اعلان ملا ہے کوئی شخص یہ اعلان کرتا رہے تو آپ دیکھیں گے اس کی کوئی مخالفت نہیں ہوتی۔صلى الله چنانچہ امت محمدیہ میلے میں دو زمانے ہیں جن میں اس اعلان کی مخالفت کی گئی ہے ایک اول زمانہ یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی نبوت کا آغاز اور پھر کچھ عرصہ تک اس کے بعد اور ایک وہ زمانہ جو ہمیں نصیب ہوا جس میں پھر یہ مخالفت شروع ہوئی۔یہ ضروری نہیں ہے کہ جب مخالفت ختم ہو جائے اس موضوع پر تو گویا یہ اعلان ہے کہ اس اعلان کے ساتھ جو دلی وابستگی تھی وہ بھی ختم ہو چکی