خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 299
خطبات طاہر جلد ۶ 299 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء مخالفت ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے ایک اور آیت میں اس مضمون کو بیان فرمایا کہ محمدمصطفی امیر اور محمد مصطفی اللہ کے غلام کا اٹھنا ، بیٹھنا، اوڑھنا بچھونا سب خدا کے لئے ہو چکا تھا۔ان کا تو یہ حال ہو چکا ہے کہ یہ جب وہ قدم اٹھاتے ہیں بازاروں میں تو ان قدموں کو بھی نفرت سے دیکھا جاتا ہے۔کوئی ایسا کام نہیں ہے جو وہ کرتے ہوں جس کی مخالفت نہ ہوتی ہو۔اس لئے یہ آیت رکھی گی تا کہ یہ بتایا جائے کہ وہ لوگ جو خدا کے ہو جاتے ہیں ان کا ہر فعل نیکی بن جاتا ہے اور خدا کی خاطر جب نیکیاں اختیار کی جاتی ہیں تو ان کی مخالفت ایک لازمی چیز ہے۔لا ز ما دشمن ان نیکیوں کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔اس لئے وہ نیکی جو اللہ ہو اس کے ساتھ صبر کا مضمون ایک جزولاینفک ہے، نہ ٹوٹنے والا ایک مضمون ہے جسے کبھی آپ علیحدہ نہیں ہوتے دیکھیں گے۔تبھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے منہ کی خاطر۔جس طرح ہم اردو میں بھی کہتے ہیں اس کے منہ کی خاطر ، مراد ہے اس کی رضا کی خاطر یا اس کے پیار کے نتیجے میں، اس کی محبت کی وجہ سے کچھ نیکیاں اختیار کی ہیں یا کریں گے ان کو لازما صبر کے ساتھ آراستہ ہونا پڑے گا یا صبر کے ہتھیاروں کے ساتھ ہتھیار بند ہونا پڑے گا ورنہ ان کے لئے یہ سفر مشکل ہو جائے گا۔پس حقیقت یہ ہے کہ محبت کا سفر بظاہر آسان دیکھائی دیتا ہے اور کئی پہلوؤں سے بہت آسان بھی ہے لیکن محبت کا سفر مشکل بھی بہت ہوتا ہے۔اس پہلو سے بہت آسان ہے کہ سوائے اس کے کہ اللہ کی محبت کی خاطر تقویٰ اور نیکی اختیار کئے جائیں تقویٰ اور نیکی اپنی ذات میں بہت مشکل ہو جاتے ہیں۔پس وہی مضمون ہے کہ: ہمارے واسطے راہ عدم بھی ہے اور یوں بھی کسی پہلو سے دیکھیں تو صبر کی ضروت بہر حال ہمیں پیش آتی ہے۔اللہ کی محبت کے بغیر خشک دین کو اختیار کرنا ایک بہت ہی مصیبت ہے، زندگی عذاب بن جاتی ہے اور اللہ کی محبت کے بغیر اگر خشک دین ورثے میں مل جائے تو اسے اختیار کرنا مشکل تو نہیں ہو گا لیکن وہ دین بے معنی ہو جائے گا۔جو عادتا ملا ہو، جو ورثے میں ملا ہو جو پریڈ کی طرح انسان کر رہا ہو جس کا روح سے کوئی تعلق نہ ہو۔اس دین کا ہونا نہ ہونا بے معنی ہے لیکن اگر کوئی بے دین ہو اور دین کی طرف سفر شروع کرے