خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 289
خطبات طاہر جلد ۶ 289 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء کرنے کے لئے ایک خاص ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔وہ گرمی جس کے نتیجے میں بدیاں مرتی ہیں وہ رمضان کی دعاؤں کے جوش میں یا اس ماحول کے نتیجے میں داخل ہوتی ہے اور پھر بڑی تیزی کے ساتھ، زیادہ آسانی کے ساتھ بیماریاں مرنا شروع ہوتی ہیں اور ایک دفعہ مر جائیں تو پھر جب تک باہر سے دوبارہ داخل نہ ہوں اس وقت تک وہ بیماری پھر دوبارہ جڑ نہیں پکڑ سکتی۔عام حالات میں بسا اوقات آپ اپنی کمزوریاں دور کریں لیکن ان کی جڑیں باقی رہ جاتی ہیں اور ہر انسان جسے اپنے نفس پر غور کرنے کی عادت ہو وہ جانتا ہے ، اس کو خوب معلوم ہوتا ہے کہ میں پوری طرح اپنی صفائی نہیں کرسکا میرے اندر بدیوں کی جڑی ابھی باقی ہیں۔وہ جڑیں عام حالات میں نشو و نما پھر پا جاتی ہیں۔رمضان میں جو مزید فائدہ یہ ہے کہ رمضان کی تپش یعنی عبادتوں کی تپش خدا تعالیٰ کے ذکر کی تپش اللہ تعالیٰ کی محبت کی تپش، جس کا خاص رمضان سے تعلق ہے۔اس کے نتیجے میں ان بدیوں کی جڑیں مرنے لگ جاتی ہیں تو نسبتاً بہت زیادہ تقویٰ کی حالت میں انسان رمضان سے باہر آتا ہے لیکن پھر اگر غافل ہو جائے تو پھر وہی حال ہو گا۔اس لئے اس مہینے سے حتی المقدور پورا استفادہ کرنا چاہئے۔ایک اور بدیوں سے بچنے کا طریق یہ ہے کہ رمضان میں بعض زائد نیکیاں جو پہلے نہیں تھیں وہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔قرآن کریم میں جہاں بدیوں کو دور کرنے کا مضمون تزکیہ کے لفظ کے تابع بیان فرمایا ہے اور زکوۃ میں یہ مضمون پایا جاتا ہے، وہاں دوسرے مضمون کو بھی بیان فرمایا ہے کہ نیکیاں بڑھانے کے نتیجے میں بھی بدیاں دور ہوتی ہیں۔اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ (هود: ۱۱۵) یقیناً نیکیاں بدیوں کو دور کرنا شروع کر دیتی ہیں۔یہ بھی کھیت کے اوپر اگر آپ نظر ڈالیں تو یہ آیت بھی مکمل طور پر کھیت کے معاملے پر چسپاں ہوتی دکھائی دے گی اور اس طرح یہ پوری تصویر مکمل ہو جائے گی۔تزکیہ بدیوں کو دور کرنے کا ذریعہ ہے اور اس کے نتیجہ میں زکوۃ نصیب ہوتی ہے۔زکوۃ کا معنی ایک یہ ہے کہ اچھی چیزیں پرورش پائیں اور تیزی سے نشو ونما حاصل کریں۔تو جب آپ بدیاں دور کرتے ہیں تو نیکیاں نشو و نما پاتی ہیں۔اور اگر نیکیوں کے اندرا گر آپ اور نیکیاں داخل کر لیں تو بیچ میں بدیوں کے اگنے کی جگہ باقی نہیں رہتی۔یہ بھی ایک بڑا دلچسپ زمیندارہ تجربہ ہے کہ جن زمینداروں کے پاس کھیت کھلا ہو اور اس میں جتنے پورے فصل کے داخل کئے جاسکتے ہوں اتنے داخل نہ کئے گئے ہوں، کاشت نہ کئے گئے ہوں، بیچ میں خلا رہ گیا تو اس بیچارے کو اس خلا کو جڑی بوٹی سے