خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 288

خطبات طاہر جلد ۶ 288 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء کو یہ فائدہ ہوا۔ایسی صوررت میں ساری غذا ، ساری طاقت جو زمین سے یا آسمان سے ملتی ہے وہ اچھی فصلوں میں صرف ہو جاتی ہے اور کوئی اس طاقت کو چرانے والا باقی نہیں رہتا۔یہی حال انسانی زندگی کا ہے رمضان آکر جڑی بوٹی کی تلفی میں آپ کی مدد کرتا ہے۔لیکن اس کے بعد اس کی حفاظت کرنا آپ کا کام ہے۔اور اس حفاظت کا فائدہ یہ ہوگا کہ تَتَّقُونَ تک آپ ان نقصان دہ پودوں سے بچ جائیں گے۔آپ نقصان دہ جراثیم اور کیڑے مکوڑوں سے بچ جائیں گے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کی جتنی بھی صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہیں وہ نیکی کی نشو ونما میں صرف ہوں گی۔اتنا غیر معمولی آپ روحانی تغیر محسوس کریں گے کہ گویا کہ ایک انقلاب برپا ہوگیا ہے۔ایسے کھیت کو جو بیرونی حملوں سے بچا ہوا ہواگر آپ غور سے دیکھیں تو ہر شاخ اس کی ہر پتا لہرا رہا ہوتا ہے۔ایک ایک پودے کے اندر صحت پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہوتی ہے، لطف آتا ہے اس کے نظارے کا اور وہی ویسا ہی بے شک کھیت ہو بظاہر لیکن اس کی جڑی بوٹی سے تلفی نہ کی گئی ہو یا کیڑے نہ مارے گئے ہوں ، کھاد آپ اتنی ہی دیں بے شک اس سے زیادہ دے دیں بیچ اس سے بہتر استعمال کریں پانی با قاعدہ دیں اس کا سطح اس کھیت کی درست رکھیں ، ہر دوسرا کام کریں لیکن ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔پس بہت سی انسانی طاقتیں بدیوں کی موجودگی کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں اور بہت سی نیکیاں جو محنت کر کے انسان کماتا ہے ان کے اندر جان باقی نہیں رہتی ، ان کی صحت کمزور ہو جاتی ہے، ان کو ویسا پھل نہیں لگتا۔تو یہ تقویٰ جس کا قرآن کریم یہاں ذکر فرمارہا ہے رمضان کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔اس سے خصوصیت کے ساتھ یہ مراد ہے کہ تمہاری نیکیوں پر حملہ کرنے والے بدی کے جانور اور کیڑے مکوڑے رمضان میں سے گزر کر تلف ہو جائیں گے اور تمہیں ایک نئی صحت عطا ہوگی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رمضان اور روزوں پر عمومی طور پر جو نصائح کثرت سے فرمائی ہیں ان میں ایک یہ بھی ذکر فرمایا ہے بار بار کہ رمضان کے معنوں میں شدت کی لو اور گرمی داخل ہے اور جس طرح زمیندار کے لئے جڑی بوٹی کی تلفی کے لئے بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب تیزی کے ساتھ گرمی پڑ رہی ہو اور لوئیں چل رہی ہوں۔اس وقت جب وہ اکھاڑتا ہے غلط پودوں کو تو ان کی جان سوکھ جاتی ہے، ان میں کچھ باقی نہیں رہتا۔اسی طرح رمضان میں بدیاں دور