خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد ۶ 290 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء دور کرنے کے لئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور ذرہ بھی غافل ہو جائے تو پھر وہاں کچھ نہ کچھ ضرور اگ آتا ہے۔یہ قانون قدرت ہے۔خلا اگر پیدا ہوگا تو ارد گرد کی طاقتیں ضرور وہاں دخل اندازی کریں گی۔تو جہاں تزکیہ نے ہمیں یہ مضمون سمجھایا کہ جن پودوں کا کسی کھیت میں حق نہیں ہے۔جو غیر ہیں جو دشمن ہیں۔ان کو اکھیڑ کے پھینکو وہ جو اس کھیت کے سگے اور اپنے ہیں ان کی نشو و نما میں بہت زیادہ قوت پیدا ہو جائے گی اور پہلے سے زیادہ ان میں برکت نظر آئے گی۔دوسری طرف یہ فرمایا کہ خالی جگہوں کو نیکیوں سے بھرنا شروع کرو تا کہ بدیوں کے لئے جگہ باقی نہ رہے۔اس مضمون کو اگر آپ سمجھ لیں تو آئندہ بدیوں سے مقابلہ کے لئے ایک بہت ہی عظیم راز آپ کے ہاتھ میں آجائے گا۔امر واقعہ یہ ہے کہ انسان کا وقت محدود ہے اور اس کی دلچسپیاں بھی محدود ہیں۔اگر انسان کے اندر جتنی بھی خدا نے استطاعت رکھی ہے اور ہر انسان کی استطاعت کئی پہلوؤں سے بدل جاتی ہے مگر جس شخص کی جتنی بھی استطاعت ہے اگر اس کی ساری استطاعت میں نیکیوں کے پودے لگا دیئے جائیں تو بدیوں کے داخل ہونے کا امکان بہت ہی بعید کی بات ہو جائے گی اور اگر خلاء چھوڑ دیئے جائیں تو پھر باوجود محنت کے کچھ نہ کچھ بدیاں اس میں ضرورا گنا شروع ہو جائیں گی۔تورمضان سے فائدہ اٹھانے کے لئے دوسرا طریق یہ ہے کہ آپ اپنی حسنات کو بڑھائیں۔بالا رادہ سوچ کر کہ فلاں میرے دوست میں یہ خوبی پائی جاتی ہیں میں کوشش کرتا ہوں کہ اس رمضان شریف میں یہ خوبی بھی مجھے حاصل ہو جائے یا میں اس پر عمل درآمد شروع کر دوں۔تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر تمہاری بعض برائیاں بھی دور ہونا شروع ہو جائیں گی۔اچھے کھیت کے سائے میں جڑی بوٹیاں مرنا شروع ہو جاتی ہیں اور جب کھیت کاٹے جاتے ہیں ہم نے دیکھا ہے جو جتنا صحت مند کھیت ہو اس کے سائے کے اندر جڑی بوٹیاں نکلتی بھی ہیں تو نہایت مری ہوئی مردہ ہی زرد حالت میں بمشکل وہ زندگی کے سانس پورے کر رہی ہوتی ہیں اور جب جڑی بوٹیاں غلبہ پا جائیں تو پھر اچھے پودوں کا جن کا لگانا مقصود تھا ان کا یہ حال ہو جاتا ہے بے چاروں کا کہ وہ غالب آجاتی ہیں اور ان کو سانس لینے میں مشکل ہو جاتی ہے۔اس لئے اس مضمون سے اس رمضان میں جہاں تک ممکن ہو جماعت احمدیہ کو استفادہ کرنا چاہئے اور خدا تعالیٰ نے جو یہ مہینہ دیا ہے ہمیں بہت بڑی نعمت ہے۔اگر رمضان نہ ہوتا تو امت مسلمہ کی حالت بالکل کچھ اور ہوتی۔باوجود اتنی گراوٹ کے جو آنحضور صلى الله