خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد ۶ 287 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء آسان کام ہے۔ایک زمیندار پھر رہا ہے کھیت کے کنارے ایک بنہ تو ڑ دیا، پانی ڈال دیا اور بس یا ہل چلا دیا یہی اس کی زندگی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ زمیندارہ سے زیادہ فی الحقیقت اور کوئی مشکل کام نہیں ہے۔اتنی باریک نگرانی کی ضرورت ہے اور اتنی مسلسل محنت کی ضرورت ہے کہ اگر اس سے انسان عدم توجہ کرے تو فائدے کے بجائے نقصان میں داخل ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ پھر اپنی زمینیں بھی بیچ دینی پر تی ہیں۔بہت ہی فرق ہے اچھے زمیندار اور برے زمیندار کی حالت میں حالانکہ بظاہر ان کے حالات ایک جیسے بھی ہوں۔اس لئے جڑی بوٹی کو جس طرح زمیندار تلف کرتا ہے اور جانتا ہے کہ پھر آئے گی اور دوبارہ سراٹھانے کی کوشش کرے گی اور مجھے ہمیشہ نگرانی کرنی پڑے گی۔جس طرح زمیندار کیڑے مکوڑے کو تلف کرتا ہے اور پھر جانتا ہے کہ دوبارہ حملہ کریں گے اور مجھے اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے اور تیار رہتا ہے کہ جب بھی وہ بیماری سراٹھائے دوبارہ اس کے سر کو کچلنے کی کوشش کرے گا۔تو پھر ایسا زمیندار یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اپنی محنت سے بہت زیادہ پھل پاتا ہے۔اور سال بہ سال اس کے کھیت کی حالت بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔اگر لمبا عرصہ نگرانی کی جائے تو کچھ عرصہ کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کھیت کو تو کیڑے چھوڑ بیٹھے ہیں۔گویا اس کھیت کی طرف رخ ہی نہیں کرتے۔چنانچہ ہم نے بعض ایسے زمیندارہ علاقے دیکھے جن کی شہرت سنی تھی اور جماعت میں ایک دفعہ ایک اعلی سطح کی کمیٹی بنائی گئی، مشاورت کی وجہ سے بنائی گئی تھی جس کا کام یہ تھا کہ دورہ کر کے مختلف جماعتوں سے رابطے بھی کئے جائیں اور نمونے کے فارم دیکھ کر لوگوں کو مشورے دیئے جائیں۔تو میں بھی اس کمیٹی کے ساتھ ایک دفعہ دورے پر گیا۔ایک بہت ہی اعلیٰ پیمانے کا زمیندارہ فارم اوکاڑہ میں تھا۔جس کے ایکڑ تو مجھے یاد نہیں لیکن بہت وسیع فارم تھا۔اور اس میں ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ہم نے بڑے غور سے پھر کر دیکھا ایک گھاس کی پتی دکھائی نہیں دی اور کوئی کسی قسم کا کیڑے کا حملہ کسی جگہ بھی ہمیں دکھائی نہیں دیا۔بالکل صاف ستھرا جس طرح نہا دھو کر کوئی انسان باہر نکلتا ہے اس طرح ہر کھیت تھا۔اور دیکھنے والا یہ سمجھتا ہو گا عام آدمی جو واقف نہیں ہے کہ یہ تو بڑی اچھی بات ہے آپ خود بخود ہی ہوگئی ہے، بڑے آرام سے ہوگئی ہے۔حالانکہ جو بھی اس کھیت کا مالک تھا اس نے سال ہا سال مسلسل اس پر محنت کی ہوگی اور بڑی کڑی نگرانی رکھی ہوگی۔تب جا کر اس