خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 286
خطبات طاہر جلد ۶ 286 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء بعض بدیاں ویسی ہی بدی ہیں لیکن رمضان شریف میں داخل ہونے کے بعد ان بدیوں کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور وہ اگر پہلے کم گناہ تھا تو گناہ کبیر بن جائیں گی۔ایسے افعال جن کی عام حالات میں اجازت ہے ان پر روزے کے دوران کرنے پر شدید سزا بھی عائد کی جاتی ہے۔تو یہ سارا عرصہ ایک مہینے کا جو ہم اس ریاضت میں سے گزریں گے اس میں ہمیں بدیاں چھوڑنے کی مزید طاقت ملے گی۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ کا مطلب یہ ہے کہ جب تم روزے رکھو گے تو تم بہت سی بدیوں سے بچنے کی طاقت پاؤ گے جوروزے کے بغیر ویسے تمہیں نصیب نہیں تھی۔بسا اوقات ایک انسان جب رمضان میں داخل ہوتا ہے بہت سی بدیوں کے بوجھ اٹھا کر داخل ہوتا ہے اور جب نکلتا ہے تو بہت ہلکا پھلکا ہو کر نکلتا ہے۔اگر بہت نہیں تو کم از کم کچھ نہ کچھ بدیاں اس کی پیچھے رہ جاتی ہیں لیکن اس کے بعد، کچھ عرصے کے بعد بعض دوست مجھے خط لکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہماری تو حالت ہی بڑی خطرناک ہے۔رمضان میں خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی بہت سی کمزوریاں دور کیں اور رمضان کے بعد پھر وہ واپس آنی شروع ہوگئیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ کمزوریوں کے دور کرنے کا معاملہ سمجھنے کے لئے در حقیقت ایک زمیندار کی آنکھ سے فصلوں کی حالت اور ان فصلوں پر حملہ کرنے والے نقصان دہ جراثیم اور کیڑے مکوڑوں کے مقابلے کی حالت کو دیکھنا چاہئے اس وقت انسان کو سمجھ آجاتی ہے کہ طبعی فطرت کے طبعی تقاضے کیا ہیں۔ایک اچھا زمیندار خوب جانتا ہے کہ اگر جڑی بوٹی یا نقصان دہ کیڑوں سے اپنے کھیت کو میں ایک دفعہ بچالوں ان کی تلفی کر دوں ان پر سپرے کروں یا اور مختلف ذرائع سے جڑی بوٹیوں کو اکھیڑ کر پھینک دوں تو پہلے چند دن بہت ہی لطف آتا ہے اس کو دیکھ کر اور اگر انسان اسی پر راضی ہو کر غافل ہو جائے اور یہ سمجھے کہ بس کافی ہوگئی تو چند دن کے بعد پھر جڑی بوٹی سر نکالنا شروع کر دیتی ہے۔پس بدیوں کا بھی انسان کے ساتھ یہی معاملہ ہوتا ہے۔اگر کوئی انسان ایک دفعہ بدی کو دور کر دے اور مطمئن ہو کے بیٹھ جائے کہ اب میں بدیوں سے فارغ ہو گیا تو اس کی مثال ایسے زمیندار کی سی ہوگی جو ایک دفعہ جڑی بوٹیاں تلف کرنے کے بعد اطمینان پا جائے اور سمجھے کہ اب سارا سال جڑی بوٹیاں اس کھیت کا رخ نہیں کریں گی۔لوگ سمجھتے نہیں کہ زمیندار کو کتنی مسلسل محنت اور کتنی مسلسل نگرانی کی ضرورت پڑتی ہے چونکہ کارخانہ چلنے کی آواز نہیں آرہی کوئی شور نہیں پڑ رہا۔اس لئے لوگ سمجھتے ہیں زمیندارہ بڑا