خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 284
خطبات طاہر جلد ۶ 284 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء فرما دیا اور روزے اور تقویٰ کا تعلق ایسا ہے کہ بعض دفعہ تقویٰ کے نتیجے میں روزے نصیب ہوتے ہیں بعض دفعہ روزے کے نتیجے میں تقویٰ نصیب ہوتا ہے اور گویا دونوں ہی ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ میں یہ بھی معنی ہے تا کہ تم تقویٰ کی راہیں اختیار کرو اور اس کے نتیجے میں روزے سے جو تمہیں فائدہ ہو سکتا ہے وہ فائدہ اٹھاؤ۔بہر حال یہ بات قطعی ہے کہ رمضان کا اور روزوں کا تقویٰ کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔جتنا تقویٰ کا معیار بلند ہوگا اتنا ہی روزے زیادہ فائدہ مند ہوں گے اور جتنا انسان اخلاص کے ساتھ روزے رکھ کے ان کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے گا انسان کو زیادہ سے زیادہ تقویٰ نصیب ہونا شروع ہو جائے گا۔تقویٰ کا جب اس پہلو سے مطالعہ کرتے ہیں تو خصوصیت کے ساتھ اس مضمون میں تقویٰ کا ایک ایسا گہرا تعلق نظر آتا ہے جسے کھول کر ہر روزہ دار کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔تقوی بنیادی طور پر بچنے کو کہتے ہیں۔احتراز کرنے کو گریز کرنے کو، اور اس میں یہ مفہوم داخل ہے کہ بری چیز سے ضر ر والی چیز سے شروالی چیز سے بچنا۔رمضان مبارک میں اور ویسے بھی ہر روزے میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف بری چیزوں سے بچنے کے لئے ہی حکم نہیں فرمایا بلکہ خاص وقت میں ان اچھی چیزوں سے بھی منع فرما دیا جو روز مرہ کی زندگی میں اسے استعمال کرنے کی اجازت ہے۔بلکہ بڑی خوشی کے ساتھ خدا تعالیٰ نے اجازت عطا فرمائی ہے۔ایک موقع پر فرمایا کہ یہ نعمتیں ہم نے اپنے مومن بندوں کے لئے پیدا کی ہیں۔دوسرے بھی دنیا میں اس کے شریک ہو جاتے ہیں مگر قیامت کے دن تو خالصہ یہ ہمارے پاک بندوں کے لئے ہمارے مومن بندوں کے لئے ہوں گی۔تو ان سے بھی منع فرما دیا۔اس لئے بچنے کا جو انتہائی مضمون ہے وہ روزے میں داخل ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز سے بچنا، ہر چیز سے پر ہیز۔ہر چیز سے کیوں پر ہیز سوال یہ ہے۔اگر آپ روزے پر غور کرے تو تقویٰ کا یہ بار یک معنی آپ کو سمجھ میں آجائے گا کہ تقویٰ کا اصل معنی یہ ہے کہ ہر اس چیز سے بچنا جس سے خدا رو کے۔نیکی بدی کے ذاتی فلسفے میں داخل ہی انسان کو ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر نیکی بدی کے فلسفے کے میں داخل ہو کر یہ تفریق شروع کر دے کہ بد کیا ہے اور نیک کیا ہے؟ تو ہر قوم کا نیک و بد کا معیار بدلتا جاتا ہے۔ایک نہایت ہی مکروہ چیز جس کے تصور سے آپ کو کھانا کھاتے وقت متلی ہو جائے گی بعض قو میں اس قدر شوق سے کھاتی ہیں ایک دوسرے کے