خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 285

خطبات طاہر جلد ۶ 285 خطبه جمعه ۲۴ ر اپریل ۱۹۸۷ء ساتھ دوڑ کے مقابلہ کر کے ان چیزوں کو پکڑتی ہیں۔اگر تقویٰ کا یہ مفہوم لیا جائے صرف کہ ہر بری چیز کو چھوڑ دو تو بہت سے ایسے لوگ ہیں یہ کہیں گے کہ ہاں ہر بری چیز چھوڑ دیتے ہیں ہمارے نزدیک ، فلاں اچھی چیز ہے اس لئے ہم نہیں چھوڑتے شراب بہت اچھی چیز ہے بعضوں کے نزدیک سور بہت اچھی چیز ہے بعضوں کے نزدیک۔افریقہ میں چوہا کھانے کا اتنا شوق ہے کہ بعض ممالک میں چوہا مرغی سے زیادہ مہنگا بکتا ہے۔ہمارے ایک احمدی استاد نے وہاں سے چٹھی لکھی کہ آج ہماری کلاس کا حرج ہو گیا کیونکہ چوہا نکل آیا تھا اور سارے بچے چوہا پکڑنے کے لئے دوڑ پڑے۔اور جب چوہا نکلے تو اس وقت کوئی کنٹرول باقی نہیں رہتا اتنا پسند ہے ان لوگوں کو۔تو آپ کا تقویٰ اور ہو گیا ان کا تقویٰ اور ہو گیا۔آپ کو چوہے کے نام سے بھی کراہت آتی ہے اور وہ چوہے کی خاطر کلاس بھی چھوڑ دیتے ہیں ہر دوسری چیز سے غافل ہو کر چوہے کے پیچھے لپکتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ نے یہاں آکر تقویٰ کا ایک ایسا مضمون سمجھا دیا جو روزوں کی برکت سے ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے بعد پھر انسان کے لئے کسی مزاج کی تفریق کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔معاشرے کے فرق کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔تقویٰ کی یہ تعریف ہے بیچو۔لیکن ہر اس چیز سے بچو جس سے خدا روکتا ہے۔خدا جس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔چنانچہ رمضان میں داخل ہو کر تقویٰ اپنے عروج کو پہنچتا ہے اور خدا جب بری چیزوں کی بجائے اچھی چیزوں سے بھی رکنے کا حکم دیتا ہے تو آپ اس سے بھی رک جاتے ہیں۔اس وقت وہی چیزیں بری ہو جاتی ہیں۔پس نیک اور بد کی تمیز کا ایک ہی راز ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی کسوٹی پر نیک و بد کو پرکھا جائے۔جو رضا کے مطابق ہے وہ نیک ہے، جو رضا کے خلاف ہے وہ بد ہے۔تو رمضان المبارک ہمیں تقویٰ کی بہت ہی اعلی تعلیم دیتا ہے۔پس جب ہم خدا کی رضا کی خاطر اچھی چیزوں سے بھی پر ہیز کرنے لگ جاتے ہیں تو ہم میں ایک قوت پیدا ہوتی ہے کہ جو بری چیزیں ہیں ان سے بدرجہ اولیٰ پر ہیز کریں اور ان کے خلاف دل میں ایک طبعی طور پر طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔عام طور پر باتیں کرنا معیوب نہیں ہے مگر رمضان میں روزہ رکھنے کے بعد عام باتیں کرنا بھی معیوب بن جاتا ہے سوائے اس کے کہ ضرورت ہو ورنہ زیادہ تر ذکر الہی میں وقت خرچ ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا کہ روزہ رکھ کر اپنے روز مرہ کے دستور میں کوئی فرق ہی نہ ڈالو۔