خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 283
خطبات طاہر جلد ۶ 283 خطبه جمعه ۲۴ ر ا پریل ۱۹۸۷ء روزے حصول تقویٰ اور حصول لقائے باری تعالیٰ کا ذریعہ ہیں ( خطبه جمعه فرموده ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ أَيَّامًا مَّعْدُودَتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ اَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ پھر فرمایا: (البقرة : ۱۸۴-۱۸۵) یہ آیات جو میں نے آج آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان میں روزے کا مضمون بیان فرمایا گیا ہے اور آغاز اس بیان سے ہوا ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر اسی طرح روزہ فرض کر دیا گیا ہے جیسے ان لوگوں پر روزہ فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے۔کیوں فرض کیا گیا ہے، اس کا کیا فائدہ ہے؟ فرمایا لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تا کہ تم تقویٰ اختیار کر سکو۔تقویٰ حاصل کرنے میں تمہیں مدد ملے۔تو خدا تعالیٰ نے تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہت ہی عمدہ ذریعہ ہمیں روزوں کی صورت میں مہیا