خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 281

خطبات طاہر جلد ۶ 281 خطبہ جمعہ ۷ ا ر ا پریل ۱۹۸۷ء جانشین ہو جائے تو خون کے ذرے ذرے میں رچ بس جاتی ہے، وجود کے ذرے ذرے تک پہنچتی ہے اور یہ فیصلہ کتنا آسان ہے دل میں خدا کی محبت کا فیصلہ کر لیا۔اللہ کرے اس کی توفیق عطا ہو اور خدا کرے جتنی تو قعات آپ سے اس ملک میں عظیم الشان انقلاب کی میں وابستہ رکھتا ہوں اس سے بہت زیادہ توقعات آپ کو خدا تعالیٰ پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔آج نماز جمعہ اور عصر جمع ہوں گی اور ان کے معا بعد ایک نماز جنازہ حاضر پڑھائی جائے گی اور اس کے علاوہ پانچ نماز جنازہ غائب ہوں گی۔مکرم عزیز اللہ خان صاحب راولپنڈی کے تھے جو مکرم سمیع اللہ خان اور احسان اللہ خان صاحب جو جرمنی میں یہاں مہاجر ہو کر آئے ہیں۔ان کے والد تھے ان کے پاس آئے ہوئے تھے۔موصی تھے یہاں دل کا حملہ ہوا اور چند دن کی بیماری کے بعد وفات پاگئے اناللہ وانا الیہ راجعون۔ان کی نماز جنازہ حاضر ہوگی۔دوسرے پانچ جنازے غائب ہیں ایک محمد عبداللہ ابوطفی صاحب عمر چھیاسی سال۔فلسطین کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے، مولانا جلال الدین صاحب شمس کے زمانے میں احمدی ہوئے اور مکرم عثمان محمد عودہ صاحب جو کہا بیر جماعت کے سیکرٹری تبشیر ہیں ان کے والد تھے۔ایک شیخ مشتاق احمد صاحب اور شیخ شبیر احمد صاحب کی والدہ محترمہ کا جنازہ ہے ویسے تو یہ پنجاب کا خاندان ہے لیکن بہت مدت سے مردان میں آباد ہوا اور بہت بڑے سخت ابتلاؤں میں سے خصوصا حالیہ گزشتہ ابتلا میں اس خاندان کو بہت تکلیفوں کا سامنا ، بہت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کی والدہ بڑی بزرگ، بہت مخلص تھیں اور یہ ان کی ہی نیک دعا ئیں اور نیک تربیت کا نتیجہ تھا کہ ان بچوں کو خدا کے فضل سے بہت ہی مشکل حالات کا مردانہ وار مقابلہ کی توفیق ملی ہے، ان کی بھی وفات ہوگئی ہے۔اللہ ان کا سایہ اٹھنے کے بعد بھی ان کو اپنے فضلوں کے سائے سے محروم نہ رکھے اور اسی طرح استقامت بھی عطا فرمائے اور مشکلات بھی حل کرے اور ان کی مرحومہ والدہ کے درجات بلند فرمائے۔ایک ہمارے ناظر صاحب بیت المال قادیان مکرم مولوی عبد القدیر صاحب درویش