خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 280

خطبات طاہر جلد ۶ 280 خطبہ جمعہ ۷ اراپریل ۱۹۸۷ء سر پہ آئی کھڑی ہے بمشکل دو سال، دو سال سے بھی کم عرصہ باقی ہے اس عرصے میں آپ نے کم سے کم ایک ہزار جرمن خدا کے حضور تحفے کے طور پر پیش کرنا ہے۔یہ کوئی معمولی کام تو نہیں ہے لیکن اگر خدا کی محبت کا زادِ راہ آپ لے کر چلیں گے تو بالکل معمولی کام ہو جائے گا۔جو خدا کی خاطر خدا سے اس کی محبت کی خاطر یہ چاہے گا کہ خدا کے لئے ایک دل جیتے کسی غلام بندے کا کیسے ممکن ہے کہ خدا اس پر رحم کی نظر نہ فرمائے اس کی مدد نہ کرے، اس کے لئے راہیں آسان نہ فرما دے،خود اس کے بوجھ نہ اُٹھا لے یہ نہیں ہوسکتا۔لازما خدا ایسے بندے کی بات میں اثر رکھ دے گا۔اس کی اداؤں کو دلنشین بنا دے گا، اس کی ہستی کو ایسی جاذبیت بخشے گا کہ لوگوں کے لئے اُسے رو کر ناممکن نہیں رہے گا۔اس لئے آپ اس طریق کو اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کا ایک نیا سفر شروع کریں آپ میں سے بہت سے ہیں جو پہلے ہی اس سفر سے آشنا ہیں۔جب مجھے خط ملتے ہیں تو خط کے دو چار سطروں سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس مقام کا آدمی ہے، کس تجربے کا آدمی ہے، کس قبیل سے تعلق رکھنے والا ہے۔حروف پر مُبر میں ہوتی ہیں اور محبت الہی تو ایسی چیز ہے جو مہر کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتی۔محبت الہی رکھنے والا تو دوسروں کے لئے بھی خاتم ہو جایا کرتا ہے۔چنانچہ خاتم النبیین کے سب سے اعلی معنی یہی ہیں کہ مد مصطفی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاتمیت عطا کی گئی ہے اور ایسی جس سے دوسرے نبی گر سیکھیں ایسے جن سے دوسرے نبی محبت الہی کے راز حاصل کریں اور قدم قدم چلنا سیکھیں اتنا عظیم الشان نبی ہے یہ تو خدا کی محبت کی ایک مہر ہوتی ہے وہ ضرورلگتی ہے ، وہ ضرور اپنا نشان چھوڑتی ہے۔تحریریں اس مُہر سے زندہ ہو جایا کرتیں ہیں، اداؤں کی کیفیت بدل جایا کرتی ہے۔ایک روحانی انقلاب انسان پر برپا ہو جاتا ہے۔پس اس دولت سے آپ استفادہ کریں اور ایک لمحہ زندگی کا اس فیصلے کے لئے صرف کر دیں کہ اے خدا! میں تیرا ہونا چاہتا ہوں ، میں نے فیصلہ کر لیا ہے بہت کمزور ہوں ، بہت خامیاں ہیں ہوسکتا ہے بعد میں بھی مجھ سے کمزوریاں سرزدہوں مگر اپنا بنائے رکھنا، کبھی مایوس نہ کرنا اس پہلو سے، ہمت اور تقویٰ عطا کرنا کہ اگر تو میرے سوالوں کو رد بھی کرے تب بھی میں تجھ سے اسی طرح محبت کرتا چلا جاؤں اور کبھی تجھ سے بے وفائی کا خیال دل میں نہ لاؤں۔خدا کرے کہ ہم اس سبق کو ہمیشہ کے لئے اپنے دلوں میں گرہ دے دیں، دلوں میں جانشین کر لیں ، دلوں کی تہہ میں بٹھا لیں کیونکہ دل سے ہو کر سارا خون گزرتا ہے اگر خدا کی محبت دل میں