خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد ۶ 279 خطبہ جمعہ ۱۷ اپریل ۱۹۸۷ء اور کیسے ممکن ہے کہ یہ اپنی زندگی کی حالت کو بدل دیں جبکہ ان کی ظاہری زندگی کی حالت آپ کی حالت سے بہت بہتر ہے۔ آپ سوچیں کہ اگر کوئی خانہ بدوش جو نہایت سختی کی حالت میں زندگی بسر کر رہا ہے آپ کو نہ صرف یہ کہے کہ عقیدہ اس کا عقیدہ اختیار کر لو بلکہ یہ کہے کہ خانہ بدوش بن جاؤ اور ہمارے ساتھ یہی یب اختیار کرلو کتنا مشکل کام ہے۔ جب آپ ان کو پیغام دیتے ہیں اسلام کا اور اسلامی تہذیہ سی قسم کے فاصلے ان کو دکھائی دیتے ہیں۔ تمدن کی ساری آزادیاں چھینے کی آپ انکو تلقین کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اعلیٰ زندگی ، ناچ گانا ، آزادی جو چاہو کرو جس طرح بسر کرو اچھے کپڑے پورے پہنو آدھے بدن پہ پہنو نہ پہنو سب آزادیاں ہیں جو رنگ ڈھنگ چاہو ا ختیار کرو ان اداؤں کو چھوڑ دو اور زنجیریں پہن لو، اپنے پور پور کو خدا کی رضا کے اندر جکڑ کر رکھ دو۔ اپنے وقت کا کچھ بھی نہ رہنے دو سب کچھ خدا کو دے دو اور خواہ تمہیں سمجھ آئے یا نہ آئے وہ زندگی کا طریق اختیار کرو جو ہم بتاتے ہیں کہ خدا تم سے چاہتا ہے تو آپ بتائیں کہ اس نئی زندگی میں جو آپ ان کو دے رہے ہیں اور اس پرانی زندگی میں ان کو کتنے فاصلے دکھائی دیں گے؟ بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس لئے اگر یہ چھوڑ کر آتے ہیں تو آپ کی خاطر نہیں ، آپ کی چالاکیوں کی خاطر نہیں ، اس یقین کے نتیجے میں کہ ہاں خدا یہ ہم سے چاہتا ہے۔ اس لئے خدا کے بغیر آپ کس طرح ان کو فتح سکتے ہیں، خدا کے بغیر آپ کیسے ان میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں، خدا کے بغیر کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ آپ کی تبلیغ کسی قسم کے کرشمے دکھائے گی اور خدا وہ خدا نہیں جو آسمان پر خیالی بسنے والا خدا ہے۔ خدا وہ خدا جو آپ کی ذات میں بسنے والا خدا ہے وہ تبدیلیاں پیدا کرے گا۔ اس لئے ہر ذات میں خدا کو بسانا ہوگا ، ہر ذات میں خدا کی محبت کا زاد راہ داخل کرنا ہوگا اور ہر شخص کو ضروری ہوگا کہ وہ زاد راہ لے کر چلے ، خدا کی محبت کے لقمے چکھائے ان لوگوں کو خدا کی محبت کے چسکے پیدا کرے، بتائے کہ ہاں میرے سے تمہیں خدا کی محبت ملے گی ۔ مجھ سے تمہیں زندہ خدا ملے گا، نشان دکھانے والا خدا ملے گا ، اپنی ہستی کا ہر آن ثبوت دینے والا خدا ملے گا یہ آپ پیغام دیں تو پھر دیکھیں کتنی حیرت انگیز اور کتنی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس لئے اس بات پر زور دیں اور چونکہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے احمدیت کی اگلی صدی بس اب