خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 279 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 279

خطبات طاہر جلد ۶ 279 خطبہ جمعہ ۷ اسر ا پریل ۱۹۸۷ء اور کیسے ممکن ہے کہ یہ اپنی زندگی کی حالت کو بدل دیں جبکہ ان کی ظاہری زندگی کی حالت آپ کی حالت سے بہت بہتر ہے۔آپ سوچیں کہ اگر کوئی خانہ بدوش جو نہایت سختی کی حالت میں زندگی بسر کر رہا ہے آپ کو نہ صرف یہ کہے کہ عقیدہ اس کا عقیدہ اختیار کرلو بلکہ یہ کہے کہ خانہ بدوش بن جاؤ اور ہمارے ساتھ یہی زندگی اختیار کر لو، کتنا مشکل کام ہے۔جب آپ ان کو پیغام دیتے ہیں اسلام کا اور اسلامی تہذیب کا تو اسی قسم کے فاصلے ان کو دکھائی دیتے ہیں۔تمدن کی ساری آزادیاں چھیننے کی آپ ان کو تلقین کر رہے ہوتے ہیں۔آپ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اعلیٰ زندگی ، ناچ گانا ، آزادی جو چاہو کرو جس طرح بسر کرو اچھے کپڑے پورے پہنو آدھے بدن پہ پہنو نہ پہنو سب آزادیاں ہیں جو رنگ ڈھنگ چاہوا ختیار کرو ان اداؤں کو چھوڑ دو اور زنجیریں پہن لو، اپنے پور پور کو خدا کی رضا کے اندر جکڑ کر رکھ دو۔اپنے وقت کا کچھ بھی نہ رہنے دو سب کچھ خدا کو دے دو اور خواہ تمہیں سمجھ آئے یا نہ آئے وہ زندگی کا طریق اختیار کرو جو ہم بتاتے ہیں کہ خدا تم سے چاہتا ہے تو آپ بتائیں کہ اس نئی زندگی میں جو آپ ان کو دے رہے ہیں اور اس پرانی زندگی میں ان کو کتنے فاصلے دکھائی دیں گے؟ بہت ہی مشکل کام ہے۔اس لئے اگر یہ چھوڑ کر آتے ہیں تو آپ کی خاطر نہیں ، آپ کی چالاکیوں کی خاطر نہیں ، اس یقین کے نتیجے میں کہ ہاں خدا یہ ہم سے چاہتا ہے۔اس لئے خدا کے بغیر آپ کس طرح ان کو فتح سکتے ہیں، خدا کے بغیر آپ کیسے ان میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں، خدا کے بغیر کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ آپ کی تبلیغ کسی قسم کے کرشمے دکھائے گی اور خدا وہ خدا نہیں جو آسمان پر خیالی بسنے والا خدا ہے۔خدا وہ خدا جو آپ کی ذات میں بسنے والا خدا ہے وہ تبدیلیاں پیدا کرے گا۔اس لئے ہر ذات میں خدا کو بسانا ہوگا ، ہر ذات میں خدا کی محبت کا زادراہ داخل کرنا ہوگا اور ہر شخص کو ضروری ہوگا کہ وہ زادراہ لے کر چلے، خدا کی محبت کے لقے چکھائے ان لوگوں کو خدا کی محبت کے چسکے پیدا کرے، بتائے کہ ہاں میرے سے تمہیں خدا کی محبت ملے گی۔مجھ سے تمہیں زندہ خدا ملے گا، نشان دکھانے والا خدا ملے گا، اپنی ہستی کا ہر آن ثبوت دینے والا خدا ملے گا یہ آپ پیغام دیں تو پھر دیکھیں کتنی حیرت انگیز اور کتنی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونماہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اس لئے اس بات پر زور دیں اور چونکہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے احمدیت کی اگلی صدی بس اب