خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 278
خطبات طاہر جلد ۶ 278 خطبہ جمعہ ۷ اراپریل ۱۹۸۷ء تبلیغ کی طرف میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں تبلیغ کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز تقویٰ ہے۔تقویٰ سے یعنی اس یقین کے ساتھ کہ خدا سے مجھے پیار ہے میں خدا کا ہوں تقویٰ سے یعنی اس یقین کے ساتھ کے خدا مجھ سے پیار کرتا ہے۔آپ کو اتنی عظمت نصیب ہوتی ہے۔آپ کی بات میں اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ دیکھنے والا نہ سمجھنے کے باوجود جانتا ہے کہ یہ ایک مختلف بات ہے۔عام باتوں سے ایک الگ بات ہے اس میں ایک بڑ اوزن محسوس ہوتا ہے۔ایسے شخص کا چہرا بدل جاتا ہے اور اس کی باتوں میں ایسا اثر پیدا ہوتا ہے کہ مجبور ہو کر لوگ اس کی باتوں پر کشاں کشاں اس کی طرف چلے آتے ہیں ان کے لئے چارہ نہیں رہتا کچھ اور۔خصوصا اس سوسائٹی میں جس میں آپ نے خدا کی طرف بلانا ہے۔جہاں تک عقل کا تعلق ہے ان کی عقلیں آپ سے کسی حال میں بھی کم نہیں بلکہ عقل کے سفر میں یہ آپ سے اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ بعض حالتوں میں سینکڑوں سالوں کا فاصلہ آپ کو دے گئے ہیں۔ان کی صناعی، ان کا سائنس کے ہر شعبہ کا علم اتنا تیزی سے آگے آگے بھاگ رہا ہے کہ مشرق سے آنے والے اگر اپنی پوری قوت کے ساتھ بھی ان کی پیروی کریں تو ان کے کندھے کے ساتھ کندھا ملانے کی طاقت نہیں پاتے۔پیچھے پیچھے آئیں گے۔اس لئے یہاں اس دنیا میں اس میدان میں آپ ان کو کیا سکھا سکتے ہیں کچھ بھی نہیں۔آپ تو بھکاری بن کے آئے ، بھکاری بن کے ہی رہیں گے۔اگر دولت کے بھکاری نہیں تو علم کے بھکاری بنے رہیں گے اور ان سے سیکھے بغیر آپ کی نہیں سارے مشرق کی حالت اب نہیں بدل سکتی کیونکہ بہت بڑا فاصلہ دے چکے ہیں اب آپ کو۔ہاں ایک میدان خالی ہے اور وہ تقویٰ اور محبت الہی کا میدان ہے۔علم کی بجائے یہ ان کو عطا کریں اور یہ اتنا بڑا احسان ہو گا کہ ساری عمر کی کمائیاں ساری زندگی کا ماحصل بھی آپ کے قدموں میں ڈال دیں تو اس احسان کا بدلہ نہیں اتار سکتے۔کیونکہ مخلوق کے بدلے آپ خالق ان کو دے رہے ہیں مادیت کے بدلے آپ ان کو روحانیت عطا کر رہے ہوں گے لیکن اگر آپ خدا والے ہوں تو پھر آپ کی بات کا ان پر اثر ہوگا یہ یقین کریں گے کہ ہاں اس کے ذریعے خدا مجھے مل سکتا ہے۔اگر خالی ذہنی چالاکی سے کام لیں گے یا دلائل کے برتے پر آپ ان کو فتح کرنے کی کوشش کریں گے کچھ دیر یہ بات سنیں گے اور کچھ دیر کے بعد منہ موڑ کے دوسری طرف چلے جائیں گے۔ہوسکتا ہے کہ آپ سمجھتے ہوں کہ ان پر اثر پڑ گیا لیکن خالی باتوں کا کوئی اثر نہیں پڑا کرتا۔اتنا اثر بہر حال نہیں پڑتا کہ اپنی زندگی کی حالت بدل دیں