خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 265

خطبات طاہر جلد ۶ 265 خطبہ جمعہ ۷ اسر ا پریل ۱۹۸۷ء إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن :۶۱) پر یہ عمل کر کے دکھا ئیں کہ ادنی احسان کے بدلے ان پر اعلیٰ احسان کریں۔جب آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے تو وہ کمزوری والا پہلو اور بھی زیادہ نمایاں ہوکر تکلیف دہ شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ان سب باتوں کا کیا حل ہے ؟ ایک تو وہ حل ہے جو مسلسل جماعت میں جاری ہے تنظیمیں کوشش کر رہی ہیں۔کہیں الجنہ اماءاللہ کام کر رہی ہے، کہیں اطفال الاحمدیہ کہیں خدام الاحمدیہ، کہیں انصار اللہ کہیں جماعت کا عمومی نظام ہے اور یہ ایک بہت ہی لمبا کام ہے اور ہمیں جلدی ہے، ہمارا وقت تھوڑا ہے ہمیں بہت جلدی انقلاب برپا کرنا ہے۔ہم صبر سے انتظار نہیں کر سکتے کہ مدتوں کے بعد آہستہ آہستہ منجھ کر یہ لوگ صاف ہوں اور پاک ہوں۔اس کا کیا حل ہے؟ اس کا سب سے اعلیٰ ، سب سے اول اور سب سے آخر ، سب سے نمایاں اور سب سے زیادہ مؤثر حل یہ ہے کہ آپ کو محبت الہی کے تقویٰ کی تعلیم دوں۔آپ کو بتاؤں کے سب بیماریوں کا حل ایک ہی ہے کہ ہر شخص خواہ کمزوری کی کسی حالت میں بھی ہے فوری طور پر اپنے رب سے محبت اور پیار کا تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرے۔یہ وہ تعلق ہے جس کے ساتھ کڑوی نصیحتیں شامل نہیں ہیں، یہ وہ تعلق ہے جس کے ساتھ نظام کی پکڑ شامل نہیں، یہ وہ تعلق ہے جس کے ساتھ کوئی طعن آمیزی شامل نہیں ہے، کوئی دنیا کی سزا کا اس میں دخل نہیں۔ایک لمحہ آپ کی زندگی کا آپ کے اندر ایک عظیم روحانی انقلاب بر پا کرسکتا ہے اور وہ لمحہ اس فیصلے کا لمحہ ہے کہ آپ نے اپنے رب سے محبت کرنی ہے، اُس کی یاد کو دل میں بسانا ہے، زیادہ سے زیادہ اس کے قریب ہونے کی کوشش کرنی ہے۔اگر یہ لمحہ آپ کو نصیب ہو جائے تو خواہ آپ دنیا اور آخرت دونوں لحاظ سے خالی ہاتھ پاکستان سے چلے تھے آپ کو دونوں جہان کی دولتیں نصیب ہو جائیں گی۔نہ آپ تہی دامن رہیں گے دنیا کے لحاظ سے نہ آپ تہی دامن رہیں گے آخرت کے لحاظ سے اور وہی لمحہ محبت الہی کالمحہ ہے جو دونوں جہان کی دولتیں نصیب کرنے والالحہ ہے۔اسی لئے سب سے زیادہ زور قرآن کریم نے محبت کے تقویٰ پر دیا ہے اور اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق کو آپ کے دشمنوں نے بھی عشق کے تعلق کے طور پر دیکھا ہے۔عرب جو آپ کے شدید دشمن تھے وہ بھی برائیوں کی تلاش میں اس سے بہت زیادہ تھے جتنا یہاں کا ماحول آپ کی برائیوں کی تلاش میں ہے لیکن بڑی گہری نظر کے مطالعہ کے بعد