خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 266

خطبات طاہر جلد ۶ 266 خطبہ جمعہ ۷ اراپریل ۱۹۸۷ء اور بڑی گہری دشمنی کی نظر کے مطالعہ کے بعد اُنہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ عشق محمد ربہ کہ ہمیں تو یہ پتا لگ رہا ہے کہ یہ شخص محمد اپنے رب کا عاشق ہو گیا ہے اور جب عرب عشق کا لفظ ان معنوں میں بولتا تھا تو مراد یہ ہوتی تھی کہ عشق میں پاگل ہو گیا ہے، دنیا و مافیھا کی ہوش نہیں رہی ،سب کچھ گنوا بیٹھا ہے۔سوائے اللہ اللہ کے اس کو کچھ یاد ہی نہیں رہا اور کچھ اس کے اوپر کسی رنگ میں اثر انداز ہی نہیں ہوتا صرف خدا کا تصور ہے جو اس کی زندگی پہ چھا گیا ہے۔اسی مضمون کو قرآن کریم نے بیان فرمایا لیکن بد قسمتی سے بعض لوگوں نے اس کو سمجھا نہیں اور اس کے غلط معنی کئے جبکہ خدا نے فرمایا وَ وَجَدَكَ ضَا لَّا فَهَدى (اضعی : ۸) اے محمد! تیرے رب نے تجھے صال پایا اور مجھے ہدایت دی۔ضال کہتے ہیں اس شخص کو بھی جو گمراہ ہو جائے اور اس شخص کو بھی جس کو ہوش ہی باقی نہ رہے۔کسی خیال میں ایسا کھویا جائے ،کسی عشق میں ایسا مبتلا ہو جائے کہ دنیا و مافیھا ہاتھ سے گنوا بیٹھے اور سوائے ایک خیال کے کوئی خیال اس کے لئے باقی نہ رہے تو ضال سے مراد یہ تھی کہ اللہ نے تجھے اپنے عشق میں ایسے سرگرداں پایا کہ سب کچھ تیرے ہاتھوں سے کھویا گیا۔سوائے خدا کے ذکر کے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔پس اس حالت کو دیکھ کر اللہ نے تجھ پر پیار کی نظر ڈالی فَهَدی اس نے پھر خود تیری ہدایت کا سامان فرمایا یعنی اپنا وصل عطا کیا۔تو حقیقت یہ ہے کہ سب سے آسان سفر خدا کی راہ میں اور سب سے زیادہ قوی تربیت کرنے والا عنصر تقویٰ کا عصر ہے جو محبت الہی پر مبنی ہو اس کے بغیر آپ کا ہر سفر مشکل ہوگا۔بہت سے لوگ مجھے جرمنی سے خصوصیت کے ساتھ خط لکھتے ہیں اپنی مشکلات میں دعاؤں کے لئے کئی قسم کے مسائل ہیں جن کا وہ ذکر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے ان کے لئے توفیق بھی ملتی ہے اور مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوتی ہے کہ ان کی توجہ دعا کی طرف ہے لیکن بعض دفعہ ایسے خطوں سے بعض تکلیف دہ شکلیں بھی سامنے آتی ہیں۔بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم نے اتنی دعائیں کیں کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلا۔اتنی سرکھپائی خدا کے سامنے کی ،اتنا کچھ مانگا لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔اس لئے آپ کچھ اور زور لگائیں کہ یہ کام ہو جائے۔تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ گویا ہر شخص کی دعا سننے اور اسے ماننے پر خدا پابند بیٹھا ہوا ہے۔ایسے لوگ دعا کا فلسفہ ہی نہیں سمجھتے۔حقیقت یہ ہے کہ دعا کا فلسفہ بھی تقوی کے بغیر سمجھ نہیں آسکتا۔ابھی کل