خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد ۶ 243 خطبه جمعه ۳ اپریل ۱۹۸۷ء کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی اور میرے لئے اس نعمت کا پاناممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولی فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اور میں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی ﷺ کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کا ملہ کا حصہ پاسکتا ہے اور میں اس جگہ یہ بھی بتلاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے جو سچی اور کامل پیروی آنحضرت میے کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے۔اور میں اس جگہ یہ بھی بتا تا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے کہ سچی اور کامل پیروی آنحضرت مے کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے۔یہ ہے راز ساری باتوں کا جس پر ہر چیز کی تان ٹوٹتی ہے۔اس سے پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک میں نے تحریر پڑھ کر سنائی تھی جس میں نقطہ بیان فرمایا گیا تھا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا آخری نقطہ دل میں پیدا ہوتا ہے۔اس کا دماغ سے تعلق نہیں ہے اور وہی بات رسول اکرم ﷺ کی پیروی کے متعلق آپ بیان فرماتے ہیں۔یادر ہے کہ وہ قلب سلیم ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکل جاتی ہے اور دل ایک ابدی اور لازوال لذت کا طالب ہو جاتا ہے پھر بعد اس کے ایک مصفی اور کامل محبت الہی باعث اس قلب سلیم کے حاصل ہوتی ہے اور یہ سب نعمتیں آنحضرت ﷺ کی پیروی سے بطور وراثت ملتی ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه : ۶۴) اس مضمون کے جو چند پہلو ہیں آج بیان کرنا چاہتا تھا وقت چونکہ تھوڑا ہورہا ہے اس لیے ان چندکا بیان بھی چلے گا، لیکن میں نے آپ سے گزشتہ خطبے میں یہ ذکر کیا تھا کہ میں ایک تحریک جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس کا اس مضمون سے تعلق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ محبت کے نتیجے میں انسان تحائف پیش کرتا ہے اور قرآن کریم نے ہر چیز جو خدا کی راہ میں پیش کی جاتی ہے اس کے ساتھ محبت کی شرط لگادی ہے بلکہ نیکی کی تعریف میں محبت کے