خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 242
خطبات طاہر جلد ۶ 242 خطبه جمعه ۳ اپریل ۱۹۸۷ء غلامی انہیں صدیقیت کے مقام تک پہنچائے گی اور یہ انعام بھی تم پر نازل ہوگا اور اگر اس سے بھی آگے بڑھنے کی طاقت ہے اور اپنا کامل وجود محمد مصطفی ﷺ میں کھو دینے کی عظمت پاتے ہو پھر یقین جانو کہ تمہیں ظلی نبوت بھی عطا ہوگی جو محمدمصطفی ﷺ کی غلامی کے نتیجہ میں عطا ہوسکتی ہے۔لامتناہی انعامات که دروازے کھولتی چلی جارہی ہے یہ محبت جس محبت کی طرف اللہ تعالیٰ بلا رہا ہے اور آغاز اس کا اس دعوے سے، اس تمنا سے ، اس اقرار سے ہوا کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں۔سارے رستے کھول دیئے ، سارے پہلو اس کے بیان فرمائے لیکن یہ مضمون تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا قرآن کریم پر حاوی ہے اور قرآن کریم میں ہر طرف پھیلا پڑا ہے۔اس موضوع کے تمام پہلو پر تو چند خطبات میں روشنی ڈالی نہیں جاسکتی مگر میں نے ایک دواموران خطبوں کے لئے چتے ہیں۔آخر پر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقرار آپ کے سامنے رکھتا ہوں ایک ایسے شخص کا اقرار جس نے اپنے آپ کو سپرد کیا، جس نے محبت کی اور آنحضرت ﷺ کومحبوب پایا۔اس قدر عشق آپ کے دل میں حضرت رسول اکرم ﷺ کا موجزن تھا اس کی کوئی مثال آپ کو اور کہیں دکھائی نہیں دے گی نہ دنیا کے عاشقوں میں، نہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد روحانی عاشقوں میں کہیں آپ یہ نظارہ دیکھیں۔ایک موقع پر فرمایا۔اگر خواہی دلیلے عاشقش باش برہان محمد در تین فارسی صفحه: ۱۴۱) تم صداقت محمد مصطفی ﷺ کی دلیل مانگتے ہو تو ایک ہی دلیل ہے تم عاشق ہو جاؤ اس کے۔اب ایک ایسا شخص جو اس عظیم الشان عرفان کے تجربے میں سے نہ گزرا ہووہ یہ بات کہہ ہی نہیں سکتا۔فرمای محمد مصطفی ﷺ کو پانا جو ہے وہ تو حسن کے رستے سے پانا ہے۔تم منطقی دلائل کیا ڈھونڈ رہے ہو۔ایک حسین دلیل ہے اس کو دیکھو اور عاشق ہو جاؤ محمد ہست برہان محمد محمد خود اپنے حسن کی دلیل ہے اس سے زیادہ اور کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی۔پھر فرماتے ہیں:۔میں نے محض خدا کی فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے