خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 244
خطبات طاہر جلد ۶ 244 خطبه جمعه ۳ اپریل ۱۹۸۷ء تحفے کو بطور شرط کے داخل فرما دیا۔فرمایا: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : ۹۳) کہ تم نیکی کی گرد کو بھی نہیں پاسکتے نیکی کی باتیں کرتے ہو تمہیں پتا کیا ہے کہ نیکی کیا ہے تم نیکی کی گرد کو بھی نہیں پاسکو گے اگر یہ راز جان لو کہ خدا کے راستے میں وہ خرچ کرو جس سے تمہیں محبت ہے۔اپنی محبوب چیز ان کو خدا کی راہ میں پیش کرنا سیکھو پھر ہاں تم کہہ سکتے ہو کہ ہاں ہم نے نیکی کا مفہوم سمجھ لیا ہے۔تو وہاں بھی محبت ہی کا مضمون جاری ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے بعض دفعہ عیسائیوں کے اس ادعا پر کہ اسلام کو محبت کا کیا پتا۔محبت کی تعلیم تو عیسائیت نے سکھائی ہے۔میں حضرت مسیح کی تعلیم کا کچھ نا کچھ اقتباسات بھی ساتھ لے کر آیا تھا مگر اب ان کو پڑھ کر سنانے کا وقت نہیں ہے۔اسے آپ پڑھ کہ دیکھیں آپ کو نمایاں فرق محسوس ہوگا کہ اسلام کی محبت کی تعلیم اتنی وسیع ، اتنی کامل ہے کہ اگر چہ مسیح کی محبت کی تعلیم تو بہت ہی حسین ہے بہت ہی دلکش ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن جب مقابلے پر رکھتے ہیں یوں لگتا ہے کہ اس چہرے پر نور نہیں رہا، پھیکی پڑنے لگ جاتی ہے اسلام کی تعلیم کے مقابلے پر لیکن ہرگز اپنی ذات میں وہ حسن سے خالی نہیں۔بہت ہی پیاری بہت دلکش تعلیم اس سے کوئی انکار نہیں مگر اسلام نے جس طرح اس محبت کی تعلیم کو انسانی زندگی کے ہر جزو میں داخل کر دیا ہے اس تفصیل کے ساتھ آپ کو کسی اور مذہب میں محبت کے فلسفے کا بیان نہیں ملے گا فرمایا لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ تم نیکی کو جانتے ہی نہیں تمہیں پتا ہی کیا ہے نیکی کیا ہوتی ہے؟ اگر یہ بات سیکھو تو خدا کے کی راہ میں سب سی اچھی چیز سب سے پیاری چیز قربان کرنانہ شروع کر دو یا خدا کی راہ میں اپنی سب سے پیاری چیز دینے کی تمنا اگر تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوتی تو تم نیکی کو نہیں جانتے۔اس کسوٹی پر جب ہم انبیاء کو پر کھتے ہیں اور خصوصاً حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زندگی کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں یہ چیز درجہ کمال کو پہنچی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔بہت سے انسان ایسے ہیں جو محبت کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہمیں اچھی چیز پیش کرنی چاہیئے اور پھر سوچتے ہیں اور متر دور ہتے ہیں یہ پیش کروں یا وہ پیش کروں ، یہ پیش کروں کہ وہ پیش کروں۔چنانچہ صوفیاء کے بھی بہت سے دلچسپ واقعات اس میں ملتے ہیں اور عام دنیا میں محبت کرنے والوں کے بھی بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ ایک خیال آیا یہ مجھے چیز سب سے زیادہ پیاری ہے پھر خیال آیا کہ نہیں یہ زیادہ