خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 212

خطبات طاہر جلد ۶ 212 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پیروی کرنا چاہتے ہوتو اللہ کی محبت کے سوا یہ پیروی ممکن نہیں۔یا بصورت دیگر اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو محمد مصطفی ﷺ کی پیروی کے سوا یہ محبت ممکن نہیں۔چنانچہ میں نے جو آیت آپ کے سامنے تلاوت کی ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله اس کے اوپر میں گزشتہ درس میں بھی روشنی ڈال چکا ہوں۔اس سے پہلے چند سال قبل ایک خطبہ کا موضوع بھی یہی آیت تھی مگر آج مختصر ااس کا یہ پہلو آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ اس کا مطلب جو بالعموم سامنے آتا ہے وہ تو یہ ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو اس دعوئی میں بچے ہوتو محمد مصطفی ﷺ کی پیروی کرو اور اپنے دعوئی کو سچا کر دکھاؤ۔اگر تم پیروی کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو پھر تم دعوئی میں بچے ہو اور جو بھی اللہ سے محبت کے دعوی میں سچا ہوتا ہے خدا اس محبت کرنے لگتا ہے يُحببكُمُ الله اس پیروی کے بعد تمہاری محبت سچی ثابت ہوگی اور خدا تم سے محبت کرے گا۔دوسرا پہلو اس کا یہ ہے جو نظروں سے مخفی رہتا ہے اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي محمدمصطفی ﷺ کی پیروی اگر خدا کی محبت کی بنا پر نہ ہو تو بہت ہی مشکل کام ہے۔اس لئے اے وہ لو گو جو محمد مصطفی ﷺ کی پیروی کرنا چاہتے ہو اگر خدا سے محبت ہے تو پھر یہ پیروی کرو کیونکہ محد مصطفی اللہ نے تو اللہ کی اطاعت محبت کے ذریعے سے کی تھی اور آپ کی زندگی کے ہر شعبہ پر، ہر لمحے پر خدا کی محبت غالب تھی۔اس لئے وہ جو محبت سے نا آشنا ہیں وہ اس کوچے سے واقف نہیں ان کے لئے سنت محمد مصطفی ﷺ کی پیروی بہت ہی بھاری ہو جائے گی اور یہ امر واقعہ ہے کہ سنت کے جتنے بھی مراحل ہیں وہ محبت کے ذریعے ہی آسان ہوتے ہیں اور محبت ہی کے ذریعے قطع ہوتے ہیں لیکن غالب پہلو اللہ کی محبت ہے۔محمد مصطفی ﷺ کی محبت بعد میں پیدا ہوتی ہے اور سنت کا یہ طریق ہمیں سکھا دیا گیا ہے کہ اگر تم نے سنت کو اولیت دے دی اور اس کے نتیجے میں خدا کی محبت ڈھونڈتے رہو تو تمہیں حقیقت میں اول اور آخر کا فرق معلوم نہیں ہے تمہیں ترجیحات معلوم نہیں، آنحضرت ﷺ کی پیروی کی بنیاد اللہ کی محبت سے شروع ہوگی۔پیروی کا آغاز اللہ کی محبت سے شروع ہوگا اور یہ پیروی تمہیں محمد مصطفی ﷺ کے عشق میں بھی مبتلا کر دے گی۔جس کا یہ مذہب ہے وہی سچا مذہب ہے، تعليسة