خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 213
خطبات طاہر جلد ۶ 213 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء وہی ہمیشہ زندہ رہنے والے مذہب ہے اور اس میں کوئی رخنہ نہیں۔لیکن وہ لوگ جو اس کی حکمت کو نہیں سمجھتے ، وہ قرآن کریم کی اس آیت کو بھی پیغام نہیں سمجھتے ، وہ بعض دفعہ سنت کو اولیت دیتے ہوئے اللہ کی محبت سے دور ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں بجائے قریب تر ہونے کے اور یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان کے مذہب میں کہ خدا اور خدائی کا مقصد صرف رسول اللہ ﷺ کی پیروی کروانا تھا حالانکہ خدا کی خدائی کا مقصد تو یہ ہے کہ خدا سے محبت کی جائے اور محبت نصیب نہیں ہو سکتی محمد مصطفی ﷺ کی پیروی کے بغیر۔تو حقیقی محبت جو خدا کی محبت کو بھینچتی ہے اس کے لئے ایک ہی رستہ باقی رہ گیا اور وہ سنت محمد مصطفی ا ہے۔سنت کے ذریعے خدا کی محبت حاصل کی جائے تو یہ مضمون پھر بہت وسیع ہو جاتا ہے اور خدا کی محبت کا گر سیکھنا ہو تو سنت سے سیکھا جائے۔اس پر اگر تفصیلی روشنی ڈالی جائے تو عمریں صرف ہوسکتی ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ کی سنت کا مضمون تو انسانی فطرت پر حاوی ہے۔کسی ایک قوم کی عادات پر ، اس کے رجحانات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا بلکہ گہرا فطرت انسانی سے اس کا تعلق ہے۔جہاں فطرت انسانی خدا تعالیٰ کے قریب تر ہے وہیں آپ سنت کا مفہوم سمجھ سکتے ہیں، وہیں آپ سنت کے فلسفہ کو پا سکتے ہیں۔اس لئے یہ تو ایک اتنا وسیع مضمون ہے جس کا دنیا کی ہر قوم سے تعلق ہے، ہر زمانے کی ہر قوم سے تعلق ہے اور اس کا حق ایک دو خطبوں میں تو کیا انسان ساری زندگی بھی ادا کرنا چاہے تو ادا نہیں کر سکتا۔میں نے آپ سے ایک وعدہ کیا تھا کہ کوشش کروں گا کہ رفتہ رفتہ آپ کو یہ سمجھاؤں کہ خدا کی محبت کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔سنت محمد مصطفی اللہ کے ذکر کے سوا تو چارہ کوئی نہیں ہے ؛ اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن اس مضمون کو سمجھنے کے لئے مختلف دروازے ہمارے لئے کھولے گئے ہیں جن کا آغا ز قرآن کریم سے ہوتا ہے اور آگے اس کا رستہ سنت کے ذریعے ہم پر کھلتا چلا جاتا ہے اور واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے جو اللہ تعالیٰ کی محبت کے ہمیں راز بتائے اور وہ طریق سمجھایا کہ کس طرح خدا سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ان رازوں میں سے ایک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود آنحضرت می کو متعلق کچھ ایسی باتیں کہیں اور اس پیار کے انداز میں کہیں کہ ان کا ذکر جب آنحضرت ﷺ کی زبان سے انسان سنتا ہے تو محبت پیدا کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔اس ذکر کے ساتھ