خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد ۶ 174 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء ور نہ خاموش پڑے رہیں گے اور Trigger کی مثال کے ساتھ ہی سب سے پہلی مثال جو سامنے آتی ہے وہ بارود کی ہے۔کتنے ہی کارتوس ہیں یا بم ہیں جن کے اندر بارود پڑے ہوئے ہیں اور وہ بالکل بے ضرر ہیں کسی کو کچھ نہیں کہتے لیکن ایک چھوٹا سا شعلہ جو ان کو چلنے کا حکم دیتا ہے یا ان کی مدد کرتا ہے چلنے میں وہ جب ان پر چلے یا دھما کہ جو دھماکے سے چلنے والے بارود ہیں ان کے لئے ظاہر ہو تو اچانک ایک حیرت انگیز اور نہایت ہی برق رفتار سلسلہ کیمیاوی اثرات کا شروع ہو جاتا ہے۔اس سے انسان نے بہت فائدہ اُٹھایا ہے اور انسان نے جتنی مشینیں ایجاد کی ہیں ان میں بہت حد تک خدا تعالیٰ کے جاری کردہ نظام سے استفادہ کیا گیا ہے۔اب موٹر ہے اس میں ایک پٹرول ہے جو دراصل موٹر کی غذا ہے ساری طاقت دیتا ہے چلنے کے لئے لیکن اگر وہ بجلی کا شعلہ نہ چلے جو سٹاٹر Starter سے چلتا ہے جس کے لئے الگ انتظام کیا جاتا ہے تو کروڑوں ٹن بھی پٹرول کسی کے پاس پڑا ہو کتنے ہی اسے استعمال کرنے کے لئے جہاز یا موٹریں وغیرہ موجود ہوں اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں۔چلانے کے لئے ایک مددگار اور ایک معاون کی ضرورت ہے جو ا سے بہر حال رہے گی۔ان اُمور پر جب آپ غور کرتے ہیں تو انسانی زندگی میں بھی ہمیں اس کی بکثرت مثالیں دکھائی دیتی ہیں اور اگر قانون قدرت پر انسان غور کرے اور ان مثالوں کو انسانی زندگی کی مثالوں پر چسپاں کرے تو اس سے بہت سے سبق ملتے ہیں۔پچھلے کچھ عرصے سے میں جماعت کو تحریک کر رہا ہوں مختلف نیک کاموں کی اور یہ بتا کر کہ وقت ، ویسے تو ہر انسان کے لئے وقت تھوڑا ہی ہے لیکن ایک خاص سنگ میل کو مد نظر رکھتے ہوئے جو سو سالہ جشن کا سنگ میل ہے۔اجتماعی حیثیت سے جماعت کے پاس وقت تھوڑا رہ گیا ہے اور مختلف تحریکات کر رہا ہوں اصلاح نفس کی ،اصلاح معاشرہ کی تعلق باللہ کو بڑھانے کے لئے اور تبلیغ کے لئے مستعد ہونے کے لئے ، جلد تر ساری دنیا میں اسلام کا نور پھیلانے کے لئے ، جتنی جتنی بھی جدوجہد کی ضرورت ہے جس نوع کی جدوجہد کی ضرورت ہے اس کی طرف توجہ دلا رہا ہوں لیکن بعض دوستوں کے بڑے معذوری کے خط آتے ہیں وہ کہتے ہیں تمنا تو بیدار ہوگئی ہے لیکن طاقت نہیں اور بعض اپنے متعلق یہ لکھتے ہیں اور جو اپنے متعلق لکھتے ہیں ان کے اندر ایک درد پایا جاتا ہے دعا کی تحریک ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں ہمیں سمجھ نہیں آتی جب ہم خطبہ سنتے ہیں یا کوئی پیغام سنتے ہیں تو دل میں ایک بڑا ز بر دست ولولہ پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے بعد پھر عمل کی قوت