خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 139
خطبات طاہر جلد ۶ 139 خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۷ء کی شہادت کے نتیجے میں بازار بند کئے گئے۔کون دنیا کا جاہل اور پاگل ہو گا جو اس قسم کے قتلوں کو عوامی اشتعال کے نتیجے کے قتل قرار دے سکتا ہے۔صاف پتا چلتا ہے کہ حکومت باہر کی دنیا میں ان ذلیل حرکتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ ظاہر کرنے کی خاطر کہ حکومت کا تو کوئی بھی قصور نہیں حکومت تو چاہتی ہے کہ احمدیوں کی جان و مال کی حفاظت ہو مگر اس قدر شدید اشتعال ہے ان کے خلاف کہ ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔یہ اثر ڈالنے کی خاطر اخباری اشتعال انگیزی کے قصے اور کاغذی فسادات کے ذکر وہ اپنے ملک میں بھی پھیلاتے رہتے ہیں اور بیرون ملک بھی یہی خبریں بھیجتے رہتے ہیں۔حالانکہ ہر قتل ایک واضح سازش کا نتیجہ ہے جس میں حکومت کی سرپرستی قطعی طور پر شامل ہے۔ورنہ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ اتنے قتل ہوں ظالمانہ اور کسی قاتل کو نہ پکڑا جائے اور اگر کوئی پکڑا جائے تو اسے یہ کہہ کر بعد میں چھوڑ دیا جائے کہ اس سے نعوذ باللہ من ذالک رسول اللہ ﷺ کی گستاخی برداشت نہیں ہوئی تھی چونکہ احمدی نے گستاخی کی تھی اس لئے اس کو قتل کر دیا گیا اور اگر دفاعی طور پر احمدی سے کسی کا جانی نقصان ہو جبکہ وہ حملہ آور ہو، گھر میں گھس کر ظلم کی رُو سے تشدد کر رہا ہو تو اس کے خلاف اتنا بڑا ہنگامہ برپا کیا جاتا ہے کہ گویا ملک میں سب سے بڑا فتنہ اور فساد وہی تھا اس سے بڑھ کر اور کوئی فتنہ ہو ہی نہیں سکتا اور بڑے بڑے فتنوں کو تو اب استناد بایا جا رہا کہ جو وہاں سے خبریں آرہی ہیں حقیقی فتنوں کو ، اخباروں میں جو چھپتی ہیں آنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ یہ تو کچھ ہیں جو چھپ رہی ہیں اب تو عادت پڑ گئی ہے ملک کو بدنظمی کی اور فساد کی اور روز مرہ کے فساد تو اب قابل ذکر ہی نہیں سمجھے جا رہے۔تو ان دونوں موازنوں میں خدا کی ایک تقدیر کام کر رہی ہے۔بالکل کھلا کھلا خدا کا ہاتھ دکھائی دے رہا ہے۔جتنا یہ جماعت احمدیہ پر ظلم کرتے ہیں اور اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں فساد ہے خدا تعالیٰ کی تقدیر عملاً اتنا ہی فساد برپا کرتی ہے اور کوئی ان کا اختیار نہیں ہے کہ اس کو روک سکے۔نہ بھی چاہیں تو تب بھی وہ اخباروں میں وہ باتیں اچھلتی ہیں اور دنیا میں ان کی تشہیر ہوتی ہے اور اب تو اتنی زیادہ بدامنی ہو چکی ہے کہ پاکستان سے جو گزشتہ چند دنوں میں آنے والے ملے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ہم اتنی مدت کے بعد وہاں گئے ہیں حیران رہ گئے ہیں یہ ملک پہنچانا نہیں جاتا کسی کو تحفظ کا احساس نہیں رہا، کسی کو یہ یقین نہیں ہے کہ عزتیں محفوظ ہیں اس ملک میں۔تاجر تجارتوں سے خوفزدہ ہیں ، سارے ملک میں ایک بدامنی ہے اور کچھ پتا نہیں کہ خطرہ کہاں سے ہے، کس طرف سے آرہا ہے لیکن حالات