خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 138

خطبات طاہر جلد ۶ 138 خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۷ء مذموم سازشوں کے لئے نشانہ بنایا جاتا ہے، خاص علاقوں کو چنا جاتا ہے۔ایک منظم طریق پر ان مخصوص علاقوں میں شرارت کو ہوا دی جاتی ہے۔کبھی صوبہ سرحد میں، کبھی بلوچستان میں کبھی پنجاب میں اور یہ ساری سازش اس طریق پر وقتا فوقتا عمل دکھاتی ہے کہ صاف پتا چلتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سازشی دماغ کام کر رہے ہیں ،منصوبہ بنارہے ہیں اور کام کو سنبھال کر باقاعدہ ایک منظم طریق پر آگے بڑھانے کے لئے کچھ خاص کا ر کن استعمال کئے جاتے ہیں اور کسی جگہ بھی جہاں بھی یہ مہم تیزی دکھاتی ہے وہاں عوامی جوش اس میں کوئی نظر نہیں آتا۔کاغذی جوش بہت دکھائی دے گا۔اخبارات میں بہت شور پڑے گا ، علماء کی طرف سے احتجاجی Resolutions پاس کئے جاتے ہیں جو شائع کئے جاتے ہیں اور فضا ایسی بنتی ہوئی دکھائی جاتی ہے اخباروں میں گویا کہ سارے ملک میں آگ لگ گئی ہے اور اشتعال پیدا ہو گیا ہے اور شدید ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے حالانکہ جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے سارا ملک پر سکون ہے۔جتنی بھی ہنگامہ آرائیاں ہیں وہ جماعت احمدیہ کے سوا اور مضامین پر ہیں۔وہ سیاسی نفرتوں کے نتیجے میں ہیں یا علاقائی نفرتوں کے نتیجے میں ہیں یا لسانی نفرتوں کے نتیجے میں ہیں بہر حال کوئی بھی وجہ ہو جو حقیقی اشتعال واقعہ ملک میں دکھائی دیتا ہے اس کا جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں ہے۔ہاں ایک بنایا ہوا کاغذی اشتعال ہے جو حکومت کی سرپرستی میں باقاعدہ منصوبے کے مطابق پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔چنانچہ جتنے بھی شہداء ہوئے ہیں جماعت احمدیہ کے اس دور میں گزشتہ ادوار کے برعکس یہ سارے نہایت ہی سفا کا نہ سازشی قتل کہلا سکتے ہیں عوامی جوش کے نتیجے میں کوئی ایک بھی شہید نہیں ہوا۔آپ ساری گزشتہ چند سالوں کی تاریخ پر ایک ایک شہید کے حالات پر غور کریں تو آپ حیران ہوں گے کہ ایک بھی ایسا شہید نہیں ہے جس سے آپ کہہ سکیں کہ عوامی اشتعال کے نتیجے میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور اس کے نتیجے میں دونوں طرف سے لڑائی ہوئی اور ایک آدمی شہید ہو گیا یا ایک شریک نے غلبہ پایا اور دوسرے نے مدافعت نہ کی ، ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔تمام شہادتیں صاف نظر آرہا ہے کہ قتل کے منصوبے ہیں اور چھپ کر قتل کئے گئے ہیں اور جن علاقوں میں قتل ہوئے ہیں وہاں لوگوں نے شدید نفرت کا اظہار کیا ہے ان ظالمانہ قتلوں کے خلاف بعض جگہ با قاعده Resolutions بھی پیش کئے گئے بعض جگہ وکلاء کی طرف سے، بعض جگہ تاجروں کی طرف سے اور بعض علاقوں میں احمدی