خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 140

خطبات طاہر جلد ۶ 140 خطبه جمعه ۲۷ فروری ۱۹۸۷ء بعض لوگوں پر واضح بھی ہورہے ہیں بعض زبانیں وہ باتیں بیان بھی کرنے لگی ہیں جو پہلے کسی زمانے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھیں، سوچ بھی نہیں سکتے تھے لوگ کہ بڑی بڑی مجالس میں ایسی باتیں ہوسکتی ہیں۔چنانچہ کراچی سے ایک ہماے احمدی دوست کا خط ملا کہ ایک بہت بڑی شادی کی دعوت میں جس میں کراچی کے تمام چوٹی کے معززین اہل علم بھی اور تاجر بھی اور وکلاء بھی اور ہر قسم کے معززین جود نیا کے پیمانے میں معزز کہلاتے ہیں وہ جمع تھے اور وہاں بھری مجلس میں ایک صحافی نے جس کا یہاں نام لینا مناسب نہیں اس نے کہا یہ جو ظلم ہورہے ہیں سارے کراچی میں اور اندھیر نگری پھیلی ہوئی ہے تم لوگ کیوں محسوس نہیں کرتے یہ سارا ظلم اس ظلم کی سزا ہے جو تم نے جماعت احمد یہ پہ روا رکھا ہے اور یہ خدا کی تقدیر کی طرف سے عذاب الہی ہے اور اس کے جواب میں ایک زبان نے بھی انکار نہیں کیا سارے خاموش ہو گئے۔وہاں جماعت اسلامی کے کٹر ممبران بھی موجود تھے چوٹی کے کیونکہ بڑے آدمیوں کی دعوت میں ہر قسم کے بڑے آدمی ہی بلائے جاتے ہیں عموما بلکہ ایک عالم دین نے جو عالم دین بھی ہیں اور ایک صحافی بھی انہوں نے اس کی تائید کی۔انہوں نے کہا واقعی یہ ظلم ہے اور ہمیں کوئی حق ہی نہیں تھا جو ہم نے ان کے ساتھ کیا ہے اس کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے، قطعا غلط ہوا ہے۔لیکن اس کے باوجود جن کو نظر نہ آرہا ہو ان کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں وہ اپنے ظلم میں رکنے کی بجائے آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ آج ہی صبح پاکستان سے سوہاوہ ضلع جہلم سے ایک شہادت کی اطلاع ملی ہے جو ہمارے ایک نہایت مخلص نوجوان غلام ظہیر کی شہادت ہے یہ تقریبا تین سال ہوئے احمدی ہوئے اور ایسے صادق القول اور صادق الفعل نو جوان تھے کہ ان کے متعلق مجھے بعض جو ان کے ملنے والے تھے لکھا کہ ان کو نکالنا چاہئے وہاں سے ان کو شدید خطرہ ہے بار بار قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں اور تبلیغ کرتے ہیں کھلم کھلا، کلمہ لگا کر پھرتے ہیں اور جب کہا جاتا ہے کہ جگہ چھوڑ و تو کہتے ہیں ہرگز نہیں میں نے چھوڑنی۔چھوٹی سی کریانے کی دکان جس کی پکری بھی کم ہونی شروع ہوگئی اس مخالفت کے دور کی وجہ سے لیکن باوجود علاقے کے دوسرے معزز احمدیوں کے اور واقفوں کے سمجھانے کے ایسا بہادر نوجوان تھا اس نے کہا ہرگز کبھی میں نے یہ جگہ نہیں چھوڑنی اسی دکان پر گزارہ کروں گا اور جو بھی ہوگا مجھے