خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 10
خطبات طاہر جلد ۶ 10 خطبہ جمعہ ۲/جنوری ۱۹۸۷ء کو خاص طور پر انتہائی تکلیفوں اور مصیبتوں کا نشانہ بنایا گیا وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف گزشتہ سال کی نسبت ہر چندے میں ترقی ہوئی اور وقف جدید کے چندے میں بھی بلکہ بعض ایسی جگہوں میں باقی سب جماعتوں سے زیادہ ترقی ہوئی۔مثلاً کوئٹہ ہے۔کوئٹہ گزشتہ سال بڑے بھاری ابتلاء میں سے گزرا ہے اور اس کی مسجد بھی منہدم کر دی گئی اور ہر طرح سے جماعت کو وہاں تکلیفیں پہنچائی گئیں اور ابھی بھی وہ سردیوں میں بڑی مشکل کے ساتھ کہیں اجتماع کرتے ہیں جمعہ کا۔اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اسی کے انعام کے طور پر، اس ابتلاء کے فیض کے طور پر اللہ تعالیٰ نے کوئٹہ کو گزشتہ سال سے کئی گنا زیادہ مالی قربانی میں آگے قدم بڑھانے کی توفیق بخشی۔اسی طرح دیگر جماعتیں ہیں جن کی تفصیل لمبی ہے ان پر میں نے نشان لگائے ہیں دیکھنے کے لئے کہ جہاں جہاں ابتلاء آئے ہیں وہاں کیا حال ہے۔تو میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ خدا کے فضل کے ساتھ جہاں جہاں ابتلاء آئے ہیں وہاں اللہ کے فضل سے نہ صرف قدم آگے بڑھا ہے بلکہ بعض جگہ کئی گنا آگے بڑھا ہے۔کوئٹہ کی میں نے مثال آپ کے سامنے رکھی ہے۔ساہیوال کی اب رکھتا ہوں۔ساہیوال میں وقف جدید کا چندہ تین ہزار آٹھ سو پچھتر روپے تھا سارے سال کا اس سے پچھلے سال اور ابتلاء کے بعد دس ہزار ایک سو نناوے ہو گیا اور اسی طرح اطفال میں بھی خدا کے فضل کے سے یہاں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔کوئٹہ میں تیرہ (۱۳) ہزار سے بڑھ کر تمھیں (۲۳) ہزار ہو گیا یعنی تقریبا دگنا اور باقی سب لمبی تفصیل ہے لیکن اگر دگنا نہیں ہوا تو بہر حال پہلے سے بڑھا ہے خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں مالی تنگی بھی بہت دی گئی۔جہاں تجارتوں کو نقصان پہنچا اور بظاہر یہ خطرہ تھا کہ ان سب جگہوں میں مجبور ہو کر احمدی اپنے چندوں میں کمی کریں گے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کے اندر جو خدا کی راہ میں قربانی کرنے کا جذبہ تھاوہ پہلے سے کئی گنا زیادہ قوت پکڑ گیا اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس قربانی کے پیچھے انہوں نے اپنی کیا کیا ذاتی ضروریات نظر انداز کی ہیں۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے اپنے بچوں پر خرچ کرنے میں کیا تنگی کی ، اپنے گھر پر خرچ کرنے میں کیا تنگی کی ، اپنے رہن سہن کے معیار کو کس حد تک گرا یا مگر عمومی نظر سے یہ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ بہت سی جماعتوں کے حالات میں جانتا ہوں، اس ایک دو سال کے اندر ان کے مالی ذرائع غیر معمولی طور پر آگے نہیں