خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 11
خطبات طاہر جلد ۶ 11 خطبہ جمعہ ۲ جنوری ۱۹۸۷ء بڑھے اور جو تجارت پیشہ احمدی ہیں ان کی اطلاعات سے یہی پتا چلتا ہے کہ ان جگہوں میں سے بہت سی جگہوں پر بڑی کثرت کے ساتھ منظم طریق پر ان کے بائیکاٹ بھی کئے گئے ہیں اور وہاں سے جو دعاؤں کے خط آئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھے ہونہار طالب علموں کو بھی یعنی جنہوں نے تعلیم سے فراغت حاصل کی ہے بڑی نمایاں کامیابی کے ساتھ ، ان کو بھی نوکریوں سے محروم کیا گیا ان جگہوں میں۔بعض لوگ جو اچھی ملازمتوں پر تھے ان کو فارغ کیا گیا، جن کو ترقیات ملنی چاہئے تھیں ترقیات دینے کی بجائے ان کی تنزلی کی گئی ان کو نیچے اُتار دیا گیا پہلے مقام سے بھی۔کئی قسم کی مصیبتیں، مشکلات ایسی ہیں جن کا براہِ راست اقتصادی اثر پڑا ہے ان جماعتوں پر۔اس لئے میں نے جب یہ جائزہ لیا تو خصوصیت سے اسی خیال سے جائزہ لیا کہ ان کے چندے کم ہوئے ہوں گے، ان میں کچھ کمزوری کے آثار ایسے ظاہر ہوں گے۔نظر پڑے گی تو ان کے لئے دعا کی توفیق ملے گی کہ اے خدا! ان کی مجبوریاں دور فرما دے تاکہ کھل کر تیری راہ میں یہ آگے بڑھ کر قدم اُٹھا ئیں اور آگے سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن میرے دل کا عجیب حال ہوا جب میں نے دیکھا کہ قربانیوں کے معاملے میں یہ تو میری دعاؤں کے محتاج نہیں۔ان کی قربانیاں دعائیں اور رنگ میں مانگ رہی ہیں، تحسین کے رنگ میں شکر کے رنگ میں ، خدا کی حمد بیان کرنے کی طرف توجہ دلا رہی ہیں اور یہ کہہ رہی ہیں تم پر حق ہے یہ ان کا ، خوب ان کے لئے دعائیں کرو، یہ خدا کے وہ بندے ہیں جن کو محمد مصطفی امیے کے سوا دنیا کا کوئی سردار نہیں تیار کر سکتا تھا۔انہوں نے اپنے اخلاق سے، اپنے اطوار سے، اپنی قربانیوں سے ثابت کر دیا ہے کہ محمد اللہ کے سوا کسی کو یہ آقا نہیں مانتے اسی کے غلام ہے، اسی کے گھڑے ہوئے یہ جو ہر ہیں جو خدا کے فضل سے دن بدن اور زیادہ صیقل ہوتے جارہے ہیں۔پس اس لحاظ سے جہاں میرے دل میں ان کے لئے دعاؤں کی تحریک پیدا ہوئی وہاں میں باقی دنیا کی جماعتوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی اپنے ان پیارے مظلوم بھائیوں کو بہت دعاؤں میں یادرکھیں۔بڑے بہادر جوان ہیں، خدا کی راہ کے شیر ہیں۔انتہائی خوفناک مظالم کا شکار ہونے کے باوجود ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی بلکہ ان کا عزم اور زیادہ سر بلند ہوا ہے اور زیادہ مستقل مزاجی کے ساتھ گہرے عزم کے ساتھ ، پختہ ارادوں کے ساتھ یہ خدا کی راہ میں قربانیاں کرتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔