خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 9
خطبات طاہر جلد ۶ 9 خطبہ جمعہ ۲/جنوری ۱۹۸۷ء بھی اٹھارہا تھا۔یہ دیکھ رہا تھا اس چیز سے لطف اُٹھا رہا تھا کہ میرے بندے محمد ﷺ نے ان عربوں کو کس قعر مذلت سے اُٹھا کر کس شان کے آسمان تک بلند کر دیا ہے، کہاں پہنچا دیا ہے ان کو پھر اس واقعہ کی خبر بھی وہ دے رہا تھا۔تو ستاری کا معاملہ بھی خدا کا عجیب ہے۔اپنے پیاروں کی ان کی کمزوریوں اور گناہوں میں ستاری فرماتا ہے اور جس چیز کو وہ چھپا رہے ہیں، جن نیکیوں کو وہ ڈھانپ رہے ہیں کہ دنیا کی نظر میں نہ آجائیں بعض دفعہ خود ان کی تشہیر فرما دیتا ہے، خود ساری دنیا کو ان سے مطلع کر دیتا ہے۔جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج جس دور سے گزر رہی ہے اس پر بھی قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کا عجیب شان سے اطلاق ہورہا ہے۔انتہائی تکلیفوں کے دور میں بھی ، انتہائی مشکلات کے دور میں بھی ، خدا کی راہ میں قربانی دینے میں اس جماعت کا قدم نہ صرف یہ کہ آگے بڑھ رہا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔نہ صرف یہ کہ ان علاقوں میں آگے بڑھ رہا ہے جہاں مصائب اور مشکلات نہیں ہیں بلکہ ان علاقوں میں آگے بڑھ رہا ہے جہاں حد سے زیادہ مصائب اور مشکلات ہیں۔کوئی ایک بھی پہلو ایسا نہیں ہے خدا کی راہ میں قربانی کرنے کا جس میں پاکستان کی جماعتیں ایک لمحہ کے لئے بھی پیچھے ہٹی ہوں۔ہر نیکی کے میدان میں خدا کے فضل سے وہ آگے بڑھتی چلی جارہی ہیں۔آج میں وقف جدید کے سال نو کا اعلان کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔اس سال میں بھی خدا کے فضل سے ساری جماعت کو ، ساری عالمگیر جماعت کو جہاں دیگر مالی اور جسمانی اور روحانی قربانیوں میں آگے قدم بڑھانے کی توفیق ملی وہاں وقف جدید میں بھی خدا کے فضل سے ہر پہلو سے ہر جہت سے جماعت نے اللہ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی ترقی کی ہے اور وقف جدید کی جو اجتماعی رپورٹ ناظم صاحب وقف جدید مکرم اللہ بخش صاحب صادق نے بھجوائی ہے اس کی رُو سے گزشتہ سال سارے سال کی کل وصولی چودہ لاکھ ستاسی ہزار روپے تھی اور امسال تاریخ رپورٹ تک جس کے بعد بھی لاکھوں روپیہ وصول ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اٹھارہ لاکھ ستر ہزار روپے وصولی ہو چکی تھی یعنی گزشتہ سال کے مقابلے پر تین لاکھ تر اسی ہزار روپے۔اور اس میں جوخوش کن پہلو ہے جو میں نے تفصیلی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد معلوم کیا وہ یہ تھا کہ بعض ایسے علاقے جہاں جماعت احمدیہ