خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 112
خطبات طاہر جلد ۶ 112 خطبہ جمعہ ۱۳؍ فروری ۱۹۸۷ء آپ کی قسموں کی غیرت رکھے گا اور آپ کے وعدے انشاء اللہ ضرور پورے ہوں گے لیکن خدا سے وہ سلوک تو نہ کریں جس طرح وہ دودھ کا تالاب بھرنے والوں نے بادشاہ سے سلوک کیا تھا۔کہانی بار ہا آپ نے سنی ہوگی لیکن ہے ہی اس لائق کے بار بار سنایا جائے اور بار بار سنا جائے کیونکہ اس میں ایک بڑا گہر ا سبق ہے اور قوموں کے عروج اور زوال سے اس کا تعلق ہے، قوموں کی زندگی اور موت سے اس کہانی کا تعلق ہے۔ایک بادشاہ نے ایک دفعہ یہ فیصلہ کیا کہ پانی کا تالاب تو دنیا میں سب بنانے والے ہوتے ہیں۔میں ایک ایسا تالاب بناؤں جسے دودھ سے بھروں اور یہ ایک عجوبہ روزگار تالاب ہود نیا میں کبھی کسی بادشاہ کو تو فیق نہیں ملی کہ ایسا تالاب بنائے جسے دودھ سے بھر دے۔چنانچہ اس نے بڑے پیار سے، بڑی چاہت بڑے اہتمام سے ایک وسیع و عریض تالاب بنایا۔یا یہ بھی کہا جاتا ہے اس کہانی کے متعلق کہ بادشاہ نے تالاب بنایا تھا پانی کے لئے لیکن وزیر نے اس کو یہ مشورہ دیا کہ اتنا خوبصورت اتنا عظیم الشان تالاب ہے تو اسے پانی سے نہ بھر میں اسے دودھ سے بھریں۔اس دوسری شکل میں جو کہانی بیان ہوتی ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بادشاہ نے تعجب کیا کہ دودھ سے کیسے بھر سکتا ہوں؟ اس نے کہا بالکل معمولی بات ہے۔آپ اپنی بستی میں اپنے شہر میں اعلان کروا دیں اور گردو پیش میں اس علاقے میں کہ کل یعنی آنے والے کل میں سب لوگ ایک ایک لوٹا دودھ اس تالاب میں ڈال دیں اور اُس دن جو بچے وہی پیئیں باقی دودھ اس دن نہ پیئیں کیا فرق پڑتا ہے اور آپ دیکھیں گے کہ کس طرح ایک ایک لوٹے سے وہ سارا تالاب بھر جائے گا۔چنانچہ بادشاہ نے اعلان کروادیا اور سارے شہروں میں اور اردگرد کے دیہات میں جو قریب قریب تھے ان میں یہ منادی کرادی گئی۔ہر شخص نے یہ سوچا اتناز بر دست بادشاہ کا یہ حکم ہے یقینا ساری رعایا دودھ کے لوٹے لے کر پہنچے گی اگر ایک میں نہ پہنچوں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ ایک میرے لوٹے سے ہی تالاب میں کمی آجائے گی؟ چنانچہ ہر ایک نے اپنے دل میں یہ بات سوچی اور اس دن کوئی ایک شخص بھی لوٹالے کے نہیں گیا۔اور جب بادشاہ اپنے ساتھ اپنے Courtiers اپنے حواریوں کو لے کر پہنچا تو خالی تالاب پڑا تھا اس میں کوئی ایک قطرہ بھی دودھ کا نہیں تھا۔تو وہ سلوک تو اپنے خالق اور مالک سے نہ کریں جو ایک بادشاہ کی جاہل رعایا نے ایک