خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 113
خطبات طاہر جلد ۶ 113 خطبه جمعه ۱۳ / فروری ۱۹۸۷ء بے حیثیت بادشاہ سے کیا تھا، ایک لاعلم بادشاہ سے کیا تھا۔بادشاہ کی لاعلمی کی بناء پر ان کو یہ جرات ہوئی تھی لیکن آپ کا خدا جس کے لئے آپ نے اپنا دودھ کا وٹاڈالنا ہے وہ تو عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ہے۔اگر آپ غیب پر ایمان لاتے ہیں تو وہ علم رکھتا ہے کہ کس حد تک آپ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور کس حد تک آپ کا ایمان یقین میں تبدیل ہوا ہے۔اس کے حضورا اپنا لوٹا پیش کریں پھر دیکھیں کہ یہ سارا عالم محمد مصطفی ماہ کے دین کے دودھ سے بھر جائے گا اور اس دنیا میں دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔یہی تو وہ نہریں ہیں جو آپ کو جنت میں ملنی ہیں اس لئے خدا کے لئے اپنا لوٹا ڈالنا نہ بھولیں۔یہی وہ ایک دودھ کا لوٹا ہے جو آپ کے لئے نہروں میں تبدیل ہو جائے گا اگلی دنیا میں اور اگر ہر احمدی اس یقین کے ساتھ اپنا حصہ پورا کرنے کی کوشش کرے گا تو فتح ہماری کہانیوں میں بسنے والی فتح نہیں رہے گی، تصورات کی دنیا کی جنت نہیں رہے گی بلکہ اس حقیقی دنیا کی فتح بن جائے گی۔اس حقیقی دنیا کی جنت بن جائے گی اور ساری دنیا اس میں آپ کی طرف دیکھ رہی ہے اور آپ کا انتظار کر رہی ہے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آخر پر میں یہ بات کہنا چاہتا تھا اس وقت ذہن سے اتر گئی کہ جو شخص یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے لا ز ما ایک احمدی بنانا ہے اگر وہ فیصلہ قطعی ہے حقیقی ہے تو خدا تعالیٰ رستے بھی اس کو بجھا دے گا اس کو باہر سے بتانے کی ضرورت نہیں کہ کس طرح بناؤ۔وہ فوراً اپنے گردو پیش پر نظر ڈالنا شروع کرے گا۔کہتے ہیں شکر خورے کو شکر مل ہی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ نے جس پرندے کو میٹھا کھانے والا بنا دیا ہے اس کے لئے وہ میٹھا بھی مہیا فرما ہی دیتا ہے۔تو آپ شکر خورہ بنیں تو سہی ہر طرف سے اللہ تعالیٰ آپ کو شکر بھجوانے کا انتظام فرما دے گا۔خود سوچیں، خود غور کریں جس طرح بس چلتا ہے جو کچھ بھی آپ کی پیش جاتی ہے اس کے مطابق کوشش کریں اور دعا کرتے رہیں اللہ تعالیٰ انشاء اللہ ان دعاؤں کو سنے گا اور آپ کے غیب کو حاضر میں تبدیل فرما دے گا۔