خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد ۶ 111 خطبه جمعه ۱۳ فروری ۱۹۸۷ء ہے کہ میں اس وعدے کو پورا کروں گا پھر اگر نہ کر سکے تو جھوٹا اُسے نہیں کہا جاسکتا۔ان کو اس معاملہ میں جھوٹ کی تعریف کا ہی علم نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے وعدوں کے متعلق بھی یہ فرمایا کہ انجان آدمی بیوقوف اور جاہل آدمی بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ خلافی کی ہے حالانکہ یہ سنت ہے کہ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور اس کے باوجود بعض وعدے پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔اس لئے کہ ان وعدوں میں مخفی شرائط ہوتی ہیں اور شرائط کے ٹلنے کی وجہ سے وعدہ ملتا ہے اور ایسا شخص جو ایسا وعدہ کرے جس میں ظاہری یا مخفی شرائط ہوں جب وہ شرائط پوری نہ ہوں تو وہ وعدہ ٹل جاتا ہے۔ایسے شخص کو جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔آپ اپنے طور پر دنیا میں ہزار ہا وعدے کرتے پھرتے ہیں اپنی اولاد سے بھی اور دوسروں سے بھی وہاں آپ کو جھوٹا ہونے کا کوئی خوف نہیں آتا۔اپنے بیٹے کو کہتے ہیں کہ ہاں میں تمہارے لئے تعلیم کا انتظام کروں گا، میں تمہیں فلاں چیز لے کے دوں گا، فلاں جگہ سیر پہ لے کے جاؤں گا، اپنی بیویوں سے وعدے کرتے ہیں اپنے بچوں سے وعدہ کرتے ہیں حالانکہ اگلے سانس کا آپ کو پتہ نہیں کہ اگلے سانس میں بھی زندہ رہیں گے کہ نہیں۔وہاں کیوں جھوٹ کا خوف نہیں آتا؟ کیا خدا کی خاطر کام بس ایک ہی چیز رہ گئی ہے جہاں سے آپ کو جھوٹا ہونے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے؟ اس کا جھوٹ اور سچ سے تعلق ہی کوئی نہیں اس کا یقین اور تو کل سے تعلق ہے۔اگر یقین کا سر آپ بلند رکھیں گے اور تو کل کا میعار بلند تر کریں گے تو لازماً آپ کے وعدوں میں پختگی ہوتی چلی جائے گی اور زیادہ یقینی ہوتا چلا جائے گا کہ وہ وعدہ ضرور پورا ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ آپ کو جھوٹا نہیں دیکھنا چاہتا جو تمیں کھا جاتے ہیں یہی تو اس کا مطلب ہے لو اقســم عـلـى الـلـه لا بــره الله ( بخاری کتاب الصلح حدیث نمبر: ۲۵۰۴۰) بعض ایسے بھی ہیں جو خدا پر قسمیں کھا جاتے ہیں۔اتنا کامل یقین اور اتنا کامل تو کل کہ خدا ایسے کرے گا۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ان کے سر میں بظاہر خاک پڑی ہوئی ہوتی ہے، بال بکھرے ہوئے اور پراگندہ حال ہوتے ہیں لیکن جب وہ خدا پر قسم کھاتے ہیں تو خدا ضرور ان کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔ان معنوں میں میں آپ سے کہتا ہوں کہ وعدے کریں خدا سے اور قسمیں کھائیں بے شک کہ خدا کی قسم ہم ایسا کر کے دکھائیں گے۔پھر چاہے آپ پراگندہ حال ہوں، چاہے آپ کے بالوں میں خاک پڑی ہوئی ہوتب بھی خدا تعالیٰ