خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 104
خطبات طاہر جلد ۶ 104 خطبه جمعه ۱۳ار فروری ۱۹۸۷ء کوئی ذرہ کا ئنات کا ایسا نہیں رہتا جہاں خدا کو شہادت کے طور پر نہ دیکھیں۔پس وہاں کلمہ شہادہ ایک بالکل اور مقام رکھتا ہے ایک اور مرتبہ کا کلمہ ہو جاتا ہے بنسبت ایک غافل آدمی کے شہادت کے کہ جس کی شہادت یقین کی بناء پر نہیں بلکہ علم کی بنا پر ہوتی ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ عین الیقین کی بناء پر نہیں بلکہ علم الیقین کی بناء پر ہوتی ہے اور جب شہادت آگے بڑھ جاتی ہے تو پھر حق الیقین تک پہنچ جاتی ہے۔پس ایمان کے نتیجے میں یقین کا پیدا ہونا ایک لازمی امر ہے۔اگر ایمان سچا ہو، اگر ایمان قوی ہو اور برحق ہوتو لا زما وہ ایمان انسان کو یقین کی طرف لے کر بڑھتا ہے یہاں تک کے مستقبل میں ہونے والے واقعات پر یقین پیدا ہو جاتا ہے۔وہ اور طرح کا غیب ہے۔مستقبل میں جو ہونے والے واقعات ہیں ان کے اوپر یقین ایمان براہ راست ایمان سے تعلق رکھتا ہے اور ایمان کے پختہ ہونے کے نتیجے میں مستقبل بھی ایک قسم کی شہادت کے طور پر دکھائی دینے لگتا ہے۔یہاں جس آخرت کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ آخرت کئی معنوں میں استعمال ہو سکتی ہے لیکن ایک بنیادی سب سے اہم معنی میرے نزدیک آخری کامیابی ہے، آخری غلبہ ہے۔وہ فتح جو خدا تعالیٰ کے نزدیک اسلام سے وابستہ ہے اور جس نے لازما تمام دنیا پر اپنا اثر دکھانا ہے اس فتح پر یقین کی طرف اس جگہ پہلی آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے، ان ابتدائی آیات میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔وَ بِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ وہ اتنے کامل الایمان لوگ ہیں کہ ان کی ایمان کے نتیجے میں خدا تعالیٰ انہیں یقین کے مختلف منازل طے کراتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ چیزیں جو اندھیروں میں غائب ہیں جو دور کی باتیں ہیں ان پر بھی وہ کامل یقین رکھتے ہیں۔اب ایک اور پہلو سے جب ہم ایمان کا یقین سے موازنہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایمان تو صرف مذہبی اصطلاح ہے اور اہل دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔یقین ایک ایسی اصطلاح ہے جو عام ہے اور مومن اور کافر اور مذہبی انسان یا غیر مذہبی انسان ہر ایک پر مشترک ہے۔ان سب کے درمیان قدر مشترک ہے، ہر ایک پر برابر اطلاق پاتی ہے اور یقین اس پہلو سے جب ہم دیکھتے ہیں تو اس کا مستقبل سے ہی تعلق ہے درحقیقت۔جو تو میں اپنے مستقبل پر یقین رکھتی ہیں چونکہ عام دنیا کی اصطلاح میں تو ایمان ان کے لئے کوئی چیز نہیں ہے۔وہ جو مستقبل پر یقین رکھتی ہیں وہ اس