خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 103

خطبات طاہر جلد ۶ 103 خطبه جمعه ۱۳ فروری ۱۹۸۷ء Hypothesis اور Theory اور Experimental Truth یہ تین چیزیں ہیں جو سائنس کی اصطلاحوں میں اور طرح بیان کی جاتیں ہیں مذہب کی اصطلاح میں اور طرح بیان ہوتی ہیں یکن بنیادی طور پر ایک ہی چیز کی دو مختلف شکلیں ہیں۔تو یقین کا تعلق تو رؤیت سے ہے، یقین کا تعلق تو تجربہ سے ہے۔پھر وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ کیوں فرمایا ؟ اس مسلئے پر جب ہم غور کریں گے تو کچھ اور باتیں سبق ہمیں حاصل ہوں گے۔لیکن ایک اور پہلو سے ایمان کا جو تعلق شہادت سے ہے وہ بھی قابل توجہ ہے اس پر بھی کچھ غور کرنا چاہیئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ایمان یقین پیدا کرتا ہے اور شہادت کا یقین سے تعلق ہے اس لئے ایمان کے نتیجے میں یقین پیدا ہوتا ہے ایمان جتنا کامل ہوا تنا یقین کی طرف لے کے جاتا ہے۔پس ایمان یقین کا بچہ نہیں لیکن یقین ایمان کا بچہ ہے۔شہادۃ سے ایمان پیدا نہیں ہوتا ایمان کے نتیجے میں شہادۃ پیدا ہوتی ہے غیب سے شہادۃ کا جو تعلق ہے وہی ایمان کا شہادت اور یقین سے تعلق ہے۔پس غیب کا بھی شروع میں ذکر فرما دیا يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ اور خدا تعالیٰ کو علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (الحشر :۲۳) قرار دیا۔پہلے ایمان کے ذریعے خدا پہچانا جاتا ہے جو غیب سے تعلق رکھتا ہے اور پھر جوں جوں ایمان انسان کو یقین کی طرف لے کر بڑھتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان بھی خدا کو شہادت کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔ایسے وجود کے طور پر اس کو دیکھنے لگتا ہے جو ہر طرف اس کو دکھائی دینے لگتا ہے اور ایمان یقین میں بدلنے کا نام ہی وہ شہادت ہے جسے ہم کلمہ شہادۃ کہتے ہیں۔اس لئے ہر شخص کا کلمہ پڑھنا ایک مقام کا نہیں ہے۔کلمہ کا سفر ایک لا متناہی سفر ہے۔آغاز میں کلمہ پڑھنے والے اور طرح کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں اور مقام محمدی پر فائز حضرت محمد مصطفی ﷺ کا کلمہ ایک اور طرح کی گواہی دے رہا تھا۔کچھ کلمہ پڑھنے والے ایسی گواہی دیتے ہیں کہ انہیں بعض چیزیں خدا نماد کھائی دیتی ہیں۔بعض کلمہ پڑھنے والے ایسی گواہی دیتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز ان کے لئے خدا نما ہو جاتی ہے۔چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا ( در این صفحه ۱۰)