خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 105
خطبات طاہر جلد ۶ 105 خطبه جمعه ۱۳ار فروری ۱۹۸۷ء یقین کے سہارے زندہ رہتی ہیں اور اگر یقین اٹھ جائے مستقبل پر تو تو میں ہلاک ہو جایا کرتی ہیں۔اسی لئے جنگوں میں خصوصا جدیدترین جنگوں میں سب سے بڑا ہتھیار جو دشمن کے خلاف استعمال کیا گیا وہ مایوسی پیدا کرنا تھا۔ہوٹلوں میں، مختلف جمگھٹوں میں، تماشہ گا ہوں میں بعض ایجنٹ بیٹھ جایا کرتے تھے اور یہ باتیں کرتے تھے کہ اب تو تم لوگوں نے ہارنا ہی ہارنا ہے۔Ammunition ختم ہو گیا، ہتھیار ختم ہو گئے، خوراک ختم ہوتی چلی جارہی ہے، دشمن کا گھیر اسخت ہو گیا، دشمن نے یہ یہ مقابل پر ہتھیار ایجاد کر لئے ہیں یہ باتیں صرف کرتے تھے جو ہر شخص کرسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں قطعی ثبوت ان کے دشمن کے ایجنٹ ہونے کا بھی نہیں ملتا تھا۔ہر کس و ناکس گھر میں ایسی باتیں کرتا ہے۔چنانچہ اس کے ذریعے قوم میں مایوسی پھیلا کر ان کو شکست دینے کی جو بڑی منظم سازش کی گئی یا منصوبہ بنایا گیا یہ جرمنی میں اس کا آغاز ہوا اور اس کا نام "Fifth Column" رکھا گیا اور نائٹسی (نازی) تصور کے مطابق سب سے زیادہ قوی اور سب سے زیادہ مضبوط ہتھیار جس سے وہ اتحادیوں پر حملہ آور تھے وہ یہ ہی " Fifth Column" تھا۔پانچواں ان کا فوجی کالم جو آگے بڑھ رہا ہے اور پیشتر اس کے کہ وہ ان کے علاقوں پر قابض ہوں ان کے جو دنیاوی مادی کالم تھے وہ تو پیچھے رہ جاتے تھے یا تھوڑی دیر کے لئے ہوائی جہاز کی پرواز کے ذریعے سے وہاں پہنچتے تھے لیکن یہ Fifth" Column اندر گھس کے ان کے اندر بیٹھ جاتا تھا، ان کی زندگی کے ہر پہلو پر حملہ آور ہوتا تھا۔تو مایوسی یقین کا برعکس ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا خواہ کسی کوئی مذہبی ہو یا غیر مذہبی ہو خدا کی ہستی پہ ایمان لاتا ہو یا نہ لاتا ہو یقین کے بغیر قومیں زندہ نہیں رہ سکتیں۔تبھی قائد اعظم نے پاکستان کے قیام کے وقت یقین محکم“ کا نعرہ بھی دیا کہ یقین کے ساتھ تم لوگ زندہ رہو ، اپنے مستقبل پر یقین رکھو۔وہ بہت سی چیزیں جن کو انسان نے رفتہ رفتہ بڑے لمبے تجربوں کے بعد گزشتہ چودہ سوسال میں سیکھا قرآن کریم نے اپنے آغاز ہی میں ان کی طرف نہ صرف اشارہ فرمایا بلکہ بہت کھلے طور پر اس مضمون کو ایک مربوط رنگ میں پیش فرما دیا اور ایمان کے ساتھ ایک ایسا تعلق باندھ دیا جس کے بعد مومن بے یقین رہ ہی نہیں سکتا۔اگر بے یقین مومن ہے تو اس کا ایمان بھی ختم ہے کیونکہ ایمان کی علامت کے طور پر یقین کو قرار دیا گیا ہے۔ایمان نہیں ہے یہ لیکن ایمان کی علامت ہے۔پس جماعت احمدیہ کے لئے اس میں بہت بڑے سبق ہیں۔ایمان اور یقین کا ایک اور فرق