خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 6

خطبات طاہر جلد ۶ 6 خطبہ جمعہ ۲ / جنوری ۱۹۸۷ء ہے کہ قرآن کریم نے نازل ہونا تھا بہر حال، اس کے نزول میں بھی ایک عجیب شان ہے کہ برحل نزول ہوا ہے۔قرآن کریم کے دور میں جب بھی کوئی ایسا واقعہ نمودار ہوا جس کے ساتھ کوئی آیت قریب تر تعلق رکھتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا نزول اس وقت کے لئے اٹھارکھا جب وہ واقعہ رونما ہو اور اس کے ساتھ اس کا تعلق باندھ دیا تا کہ اس کے نزول کے ساتھ ساتھ اس کی تفہیم بھی ہوتی رہے کہ کس قسم کے مضامین ہیں جن کا ان آیات سے تعلق ہے۔پس شان نزول سے صرف اتنی مراد ہے۔وہ جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے پاس ایسے مہمان پہنچے جن کو ٹھہرانے کے لئے آنحضور ﷺ کے پاس کوئی خاص جگہ نہیں تھی۔آپ نے اس پر اعلان فرمایا کہ کوئی ہے جو میرے مہمانوں کو اپنے گھر لے جائے۔وہ بڑی غربت کا دور تھا اور اس آیت کریمہ سے بھی پتا چلتا ہے کہ وہ دن خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں پر انتہائی غربت کے تھے۔اس وقت انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ کا مہمان میرا مہمان ہے، میں اپنے گھر لے جاؤں گا۔چنانچہ آپ نے اس کو اس بات کی اجازت دی۔لیکن اس واقعہ کو بقیہ حصہ بیان کرنے سے پہلے مجھے یاد آیا کہ اس آیت کا ترجمہ کردینا چاہئے کیونکہ ہمارے بہت سے نوجوان ایسے ہوں گے جن کو اس کا ترجمہ نہ آتا ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَالَّذِيْنَ تَبَوَّةُ الدَّارَ وَالْإِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یعنی انصار جو مدینے کے بسنے والے ہیں یہ مہاجرین کے آنے سے پہلے ہی ان گھروں میں بستے تھے ، مدینہ کو آباد رکھے ہوئے تھے اور ان کے پہنچنے سے پہلے ہی یہ ایمان بھی قبول کر چکے تھے چنانچہ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ جو لوگ بھی ہجرت کر کے ان کی طرف آتے تھے ان سے گھبراتے نہیں تھے بلکہ بہت محبت کرتے تھے۔ان کے گھر تھے جن کو باہر سے آنے والوں نے آباد ان معنوں میں کرنا تھا کہ ان کے گھر سے حصہ پانا تھا ان کے اموال میں شریک ہونا تھا۔ان کے او پر دنیا کے لحاظ سے، دنیا کی زبان میں ایک بوجھ بننا تھا مگر یہ ایسے عجیب لوگ ہیں کہ ان کے آنے سے ان کے دل میں تنگی محسوس نہیں ہوئی بلکہ آنے والوں سے بہت ہی محبت کرتے تھے