خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 5

خطبات طاہر جلد ۶ 5 خطبہ جمعہ ۲ /جنوری ۱۹۸۷ء مخاطب کر کے کہے گی کہ تم نے میرے اس بندے کی متابعت کی ہے، میرے اس بندے کی پیروی کی ہے، جس کے متعلق میرا یہ اعلان ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولیٰ کہ تیرا ہر آنے والا لمحہ ہر گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہوتا چلا جائے گا۔پس اسی کی پیروی کے صدقے ہم تجھ سے بھی وعدہ کرتے ہیں کہ تیرا بھی ہر آنے وال لمحہ تیرے ہر گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہوتا چلا جائے گا۔پس ان معنوں میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اور یہ امید رکھتے ہوئے کہ وہ میرے نیک ارادوں کو عمل میں ڈھالنے کی مجھے توفیق بخشے گا اور آپ کے نیک ارادوں کو عمل میں ڈھالنے کی آپ کو توفیق بخشے گا۔میں آپ کو یعنی ساری جماعت احمد یہ عالمگیر کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور تمام جماعت احمد یہ عالمگیر کی نمائندگی میں تمام بنی نوع انسان کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں ، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ہمارا فیض تم تک پہلے سے زیادہ سمتوں سے، زیادہ بھر پور طور پر پہنچتا رہے۔اللہ کرے ہمیں اس عہد کو نبھانے کی توفیق ملے اور ہمارا یہ سال اس طرح ختم ہو کہ گزرتا ہوا وقت ہمیں مبارکباد دے رہا ہو کہ تم نے اپنے مبارک عہد کو خوب نبھایا۔دوسرا حصہ اس مضمون کا اس آیت کریمہ سے تعلق رکھتا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی تھی۔اس میں مومنوں کی بعض صفات بیان کی گئیں ہیں اور جہاں تک مفسرین کا تعلق ہے وہ اس ضمن میں ایک مدینہ میں ہونے والے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ اس آیت کی شان نزول وہ واقعہ ہے۔وہ واقعہ بہت خوبصورت، بڑا دلکش ہے، بہت اثر پذیر ہے۔لیکن قرآن کریم کی کسی آیت کا تعلق ماضی کے کسی واقعہ سے اس طرح باندھا نہیں جاسکتا کہ یہ آیت ماضی کی ہو کر رہ جائے۔یہ بھی وقت کی طرح ایسا جاری مضمون ہے قرآن کریم کا کہ ہمیشہ کسی ایک لمحہ بھی ، ایک لمحے کے کروڑو میں حصہ میں بھی اس کے کسی مضمون کو اس طرح قرار نہیں آتا کہ وہاں ٹھہر جائے۔وقت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کا مضمون ہر جہت میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ہر نئی صورت حال پر نئے رنگ میں اثر انداز بھی ہوتا جاتا ہے اور اس پر اطلاق بھی پاتا چلا جاتا ہے۔اس لئے جب بھی شان نزول کا کوئی واقعہ بیان کیا جائے تو اس سے یہ مراد نہیں لینی چاہئے کہ صرف اس واقعہ کی خاطر یہ آیت نازل ہوئی تھی بلکہ مراد یہ